شادی سے متعلق سوالات، علمائے کرام کے جوابات

ہم روزانہ نکاح اور ازدواجی زندگی سے متعلق ایک ایسا سوال چنتے ہیں جس کا جواب کوئی مستند مفتی صاحب دے چکے ہوں، اور اس کا چند سطروں میں خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ ہر خلاصے کے ساتھ اصل ماخذ پر مکمل جواب کا ربط موجود ہے۔

آج کا سوال

طلاق

کئی سال پہلے تین طلاقوں کے بعد کیا سابقہ بیوی اس کے گھر میں رہ سکتی ہے، اور کیا اسے نفقہ یا جائیداد میں حق ملتا ہے؟

ایک شخص نے بتایا کہ اس نے تقریباً انیس سال پہلے بیوی کو تحریری طور پر تین طلاقیں دیں، مگر وہ اب بھی اس کے ذاتی گھر میں رہ رہی ہے اور نکلنے سے انکاری ہے، اور پوچھا کہ یہ جائز ہے یا نہیں، کیا اسے رہائش اور خرچ دینا لازم ہے، اور کیا اس کا جائیداد میں کوئی حق ہے۔ محمد یعقوب علی صاحب نے جواب دیا کہ تین طلاقوں سے نکاح مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے، اس لیے تحریری طلاقیں اسی وقت واقع ہو گئیں۔ عدت پوری ہونے کے بعد وہ شرعاً اس کے لیے اجنبی ہے، لہٰذا شوہر پر نہ نفقہ لازم ہے اور نہ رہائش، اور محض سابقہ نکاح کی بنا پر اسے جائیداد میں حصہ بھی نہیں ملتا۔ اس کا گھر میں ٹھہرنے پر اصرار اور جائیداد کا دعویٰ جائز نہیں، اسے چاہیے کہ باز آ جائے۔ جواب فتاویٰ ہندیہ اور بدائع الصنائع جیسی فقہی کتابوں پر مبنی ہے، اور اس میں بیٹوں کے معاملے یا عدالتی کارروائی پر بات نہیں کی گئی۔

جواب: محمد یعقوب علی، دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہفتویٰ نمبر 100332نکاپ پر خلاصہ

مکمل فتویٰ OnlineFatawa.com پر پڑھیں

یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • طلاق

    کئی سال پہلے تین طلاقوں کے بعد کیا سابقہ بیوی اس کے گھر میں رہ سکتی ہے، اور کیا اسے نفقہ یا جائیداد میں حق ملتا ہے؟

    ایک شخص نے بتایا کہ اس نے تقریباً انیس سال پہلے بیوی کو تحریری طور پر تین طلاقیں دیں، مگر وہ اب بھی اس کے ذاتی گھر میں رہ رہی ہے اور نکلنے سے انکاری ہے، اور پوچھا کہ یہ جائز ہے یا نہیں، کیا اسے رہائش اور خرچ دینا لازم ہے، اور کیا اس کا جائیداد میں کوئی حق ہے۔ محمد یعقوب علی صاحب نے جواب دیا کہ تین طلاقوں سے نکاح مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے، اس لیے تحریری طلاقیں اسی وقت واقع ہو گئیں۔ عدت پوری ہونے کے بعد وہ شرعاً اس کے لیے اجنبی ہے، لہٰذا شوہر پر نہ نفقہ لازم ہے اور نہ رہائش، اور محض سابقہ نکاح کی بنا پر اسے جائیداد میں حصہ بھی نہیں ملتا۔ اس کا گھر میں ٹھہرنے پر اصرار اور جائیداد کا دعویٰ جائز نہیں، اسے چاہیے کہ باز آ جائے۔ جواب فتاویٰ ہندیہ اور بدائع الصنائع جیسی فقہی کتابوں پر مبنی ہے، اور اس میں بیٹوں کے معاملے یا عدالتی کارروائی پر بات نہیں کی گئی۔

    جواب: محمد یعقوب علی، دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہفتویٰ نمبر 100332نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ OnlineFatawa.com پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • نکاح

    کیا ایسی عیسائی عورت سے نکاح درست ہوگا جو شوہر کی شرائط مان لے، اور کیا یہ مناسب ہے؟

    ایک شخص نے پوچھا کہ دفتر کی ایک خاتون سے اس کا نکاح درست ہوگا یا نہیں، جو بدھ مت میں پلی بڑھی، پانچ سال پہلے عیسائی ہوئی، اور گھر میں شراب و سور کے بغیر، صرف حلال کھانے اور بچوں کی مسلمان پرورش کی شرائط مان گئی ہے۔ محترم افتاء ریسرچ فیلو نے، جن کے جواب کی تصدیق مفتی عبدالرحمن منگیرا اور مفتی زبیر پٹیل نے کی، جواب دیا کہ اگر وہ خود اپنے عقیدے میں عیسائی ہو، محض والدین کی وجہ سے نہیں، تو نکاح درست ہوگا اور اس کا سابقہ بدھ مت اس میں رکاوٹ نہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ غیر مسلم ملک میں رہتے ہوئے کتابیہ سے نکاح مکروہ تحریمی ہے، جسے حرام کے قریب کہا گیا۔ نکاح سے پہلے کیے گئے وعدے بعد میں نبھانا مشکل ہو سکتا ہے، مثلاً گھر میں شراب کے معاملے میں نرمی آ سکتی ہے، اور بچوں کی پرورش پر اکثر اختلاف ہو جاتا ہے۔ علیحدگی کی صورت میں بچے اسلام سے ہٹ کر پلنے کا اندیشہ بتایا گیا، اس لیے جواب میں اس نکاح کی سفارش نہیں کی گئی۔

    جواب: افتاء ریسرچ فیلو، FatwaCentre.org (بذریعہ IslamQA.org)نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ IslamQA.org پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • نکاح

    نکاح میں چھوہارے لٹانا کیسا ہے؟

    سائل نے پوچھا کہ نکاح کے موقع پر لوگوں پر چھوہارے لٹانا کیسا ہے۔ مولانا عابد عطاری مدنی صاحب نے جواب دیا کہ یہ جائز ہے، اور اس کی دلیل میں روایت پیش کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض نکاحوں میں چھوہارے لٹائے گئے، نیز امام ابوحنیفہ نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ میزبان کی اجازت ہو تو لٹائی ہوئی چیزیں اٹھانا درست ہے، اور ابن ابی لیلیٰ کی قیاس پر مبنی ناپسندیدگی کو روایات اور عام رواج کی بنا پر چھوڑ دیا گیا۔ ساتھ دو احتیاطیں بھی بتائیں: نکاح اکثر مسجد میں ہوتے ہیں اور وہاں ایسا کرنے سے مسجد کے آداب متاثر ہوتے ہیں، اور چھوہارے ایسی جگہ نہ پھینکے جائیں جہاں پاؤں تلے آئیں یا نالی اور کیچڑ میں ضائع ہوں۔

    جواب: مولانا عابد عطاری مدنی، دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)فتویٰ نمبر FatwaQA-035نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ FatwaQA.com پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • نکاح

    کیا مسلمان عورت کے لیے ایسے مرد سے نکاح جائز ہے جو مسلمان گھرانے میں پلا بڑھا مگر نماز نہیں پڑھتا؟

    ایک خاتون نے پوچھا کہ کیا وہ ایسے مرد سے نکاح کر سکتی ہیں جو مسلمان گھرانے میں پلا بڑھا ہے مگر نماز نہیں پڑھتا۔ مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب نے جواب دیا کہ رشتہ چنتے وقت سب سے اہم چیز دینداری اور نیک کردار ہے، باقی باتیں اس کے بعد آتی ہیں۔ جواب میں دلیل دی گئی کہ جو شخص اپنے رب کے حقوق ادا نہیں کرتا، اس سے یہ امید کم ہے کہ وہ بیوی کے حقوق ادا کرے گا۔ انہوں نے وہ حدیث بھی نقل کی کہ عورت سے دین، مال اور حسن کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، اس لیے دیندار کو ترجیح دو، اور بےنمازی سے نکاح نہ کرنے کا مشورہ دیا، کیونکہ میاں بیوی کو دین پر عمل میں ایک دوسرے کا معاون ہونا چاہیے اور بیوی کے بھی سست پڑ جانے کا خدشہ ہے۔ جواب نصیحت کے انداز میں ہے اور ایسے نکاح کے درست ہونے یا نہ ہونے پر بات نہیں کرتا۔

    جواب: مفتی ابراہیم ڈیسائی، دارالافتاء محمودیہفتویٰ نمبر 41680نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ askimam.org پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • نکاح

    کیا نکاح درست ہے جب نکاح خواں نے 'میں نے اسے تمہیں دیا' نہیں کہا مگر دولہا سے قبولیت پوچھی؟

    ایک خاتون نے پوچھا کہ کیا ان کا نکاح درست ہے، کیونکہ نکاح خواں نے دولہا سے کہا کہ اس نے دلہن کا نام والد کی اجازت اور طے شدہ مہر کے ساتھ نکاح میں دیا ہے اور پھر قبول کرنے کا پوچھا، مگر ان الفاظ میں "تمہیں" نہیں کہا۔ فتویٰ سینٹر ڈاٹ آرگ کے افتا ریسرچ فیلو صاحب نے جواب دیا کہ نکاح درست ہے۔ ایجاب دولہا ہی سے مخاطب تھا اور حاضرین نے اس کے جواب کو قبولیت ہی سمجھا۔ جواب میں ابن عابدین کے حوالے سے یہ اصول بتایا گیا کہ جب شخص سامنے موجود ہو اور اس کی طرف اشارہ ہو تو نام میں غلطی نقصان دہ نہیں، کیونکہ اشارہ نام سے زیادہ پہچان کراتا ہے۔ جواب میں دوسرے الفاظ کی صورتوں پر بات نہیں کی گئی۔

    جواب: افتا ریسرچ فیلو، FatwaCentre.org (بذریعہ IslamQA.org)نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ IslamQA.org پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • میاں بیوی کے حقوق

    کیا شوہر اپنی بیوی کی کمائی استعمال کر سکتا ہے؟

    سائل نے پوچھا کہ کیا شوہر اپنی بیوی کی کمائی استعمال کر سکتا ہے۔ مفتی فضیل رضا عطاری صاحب نے جواب دیا کہ عورت جس مال کی مالک ہو، چاہے وہ وراثت، مہر یا تحفے میں ملا ہو یا اس نے خود کمایا ہو، وہ اسی کا ہے، اور شوہر اس کی اجازت کے بغیر اسے استعمال نہیں کر سکتا؛ یہ اجازت صاف الفاظ میں بھی ہو سکتی ہے اور میاں بیوی کے معمول سے بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ بیوی کی رضا سے اس کی کمائی گھر کی چیزوں پر خرچ ہو سکتی ہے اور شوہر ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ مفتی صاحب نے عورت کی ملازمت کے لیے پانچ شرطیں بھی گنوائیں، جن میں جسم کا ضروری پردہ، لباس کا ساتر ہونا، غیر محرم کے ساتھ تنہائی نہ ہونا اور کام کی جگہ اور آنے جانے میں کسی خطرے کا نہ ہونا شامل ہیں، اور بتایا کہ ان میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو ملازمت ناجائز ہے۔

    جواب: مفتی فضیل رضا عطاری، دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ FatwaQA.com پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • حق مہر

    کیا عمر بھر نماز کی پابندی کا وعدہ مہر کے بدلے میں ہو سکتا ہے؟

    سائل نے پوچھا کہ کیا شوہر کا یہ وعدہ کہ وہ زندگی بھر کوئی نماز نہیں چھوڑے گا، مہر کی جگہ لے سکتا ہے۔ مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی صاحب نے جواب دیا کہ مہر ایسی چیز ہونی چاہیے جو مال ہو اور اس کی قیمت ہو، جبکہ نماز کی پابندی مال نہیں، اس لیے وہ مہر نہیں بن سکتی۔ اگر ساتھ میں کم از کم دس درہم چاندی کے برابر رقم بھی طے ہوئی تھی تو وہی مہر ہے؛ اور اگر کچھ طے نہ ہوا یا رقم اس سے کم تھی تو بیوی کو اس کے والد کی طرف کی ہم مرتبہ عورتوں جیسا مہر ملے گا۔ مفتی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ وقت پر نماز پڑھنا اپنی جگہ فرض ہے اور جان بوجھ کر نماز چھوڑنا گناہ ہے۔

    جواب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی، دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)فتویٰ نمبر Nor-13055نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ FatwaQA.com پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • طلاق

    جب بیوی طلاق مانگے اور شوہر کہے 'تمہیں اجازت ہے' تو کیا طلاق ہو جاتی ہے؟

    ایک شخص کی شادی کو تقریباً ڈھائی سال ہوئے تھے اور آپس میں اکثر جھگڑا رہتا تھا؛ جب بھی بیوی طلاق مانگتی تو وہ کہتا 'تمہیں میری اجازت ہے'، اور اس نے پوچھا کہ کیا طلاق ہو گئی۔ اظہر امین صاحب نے جواب دیا کہ اگر اس نے صرف یہی الفاظ کہے اور طلاق کی نیت نہیں تھی تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح قائم ہے۔ جواب میں فقہِ حنفی کی کتابوں کے حوالے سے یہ اصول بتایا گیا کہ طلاق کے لیے طلاق کا معتبر لفظ ہونا ضروری ہے، اور بیوی کے مطالبے پر ایسا جواب طلاق شمار نہیں ہوتا۔ میاں بیوی کو یہ نصیحت بھی کی گئی کہ آئندہ طلاق کا ذکر اور اس پر بحث سے بچیں تاکہ بعد میں پچھتانا نہ پڑے۔ جواب میں مختلف الفاظ یا طلاق کی نیت والی صورت پر بات نہیں کی گئی۔

    جواب: اظہر امین، دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہفتویٰ نمبر 99452نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ OnlineFatawa.com پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • نکاح

    کیا محرم میں نکاح جائز ہے، اور ولیمہ کب کرنا چاہیے؟

    سوال یہ تھا کہ کیا محرم کے مہینے میں یا عید الاضحی کے اگلے دن شادی کرنا جائز ہے، اور کیا نکاح اور ولیمہ ایک ہی دن کیے جا سکتے ہیں۔ مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب نے جواب دیا کہ شریعت میں کسی خاص مہینے یا تاریخ میں شادی کرنے کی ممانعت نہیں، اور محرم تو حرمت والے مہینوں میں سے ہے، اس لیے اس میں نکاح جائز ہے۔ ولیمہ ایک مسنون دعوت ہے اور بہتر یہ ہے کہ وہ رخصتی اور ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد کیا جائے۔ اگر اس سے پہلے کر لیا جائے تو بھی ولیمہ درست ہو جاتا ہے۔ جواب میں شادی کی تاریخوں سے متعلق دیگر رسموں پر بات نہیں کی گئی۔

    جواب: مفتی ابراہیم ڈیسائی، دارالافتاء محمودیہفتویٰ نمبر 36598نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ askimam.org پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • حق مہر

    کیا مہر کے ایک حصے کے طور پر نقد رقم کے ساتھ قرآن مجید کا نسخہ دیا جا سکتا ہے؟

    ایک شخص نے پوچھا کہ کیا وہ نقد رقم کے ساتھ مہر کے ایک حصے کے طور پر قرآن مجید کا نسخہ بھی دے سکتا ہے۔ مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب نے جواب دیا کہ مہر نقد کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے اور کسی چیز کی صورت میں بھی، اس لیے قرآن مجید دینا جائز ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ مہر ایسی چیز ہونی چاہیے جس کی شرعاً مالی قیمت ہو؛ اس کی کم از کم مقدار دس درہم چاندی (تقریباً 30.6 گرام) کی قیمت ہے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ لہٰذا قرآن مجید اسی صورت کافی ہے جب اس کی قیمت اس کم از کم مقدار کے برابر ہو، اور جواب میں فقہِ حنفی کی کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    جواب: مفتی ابراہیم ڈیسائی، دارالافتاء محمودیہفتویٰ نمبر 45871نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ askimam.org پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • حق مہر

    کیا نکاح کے بعد باپ یا خود دلہن مہر معاف کر سکتی ہے؟

    سوال یہ تھا کہ کیا باپ اپنی بالغ بیٹی کا مہر معاف کر سکتا ہے، اور کیا مرض الموت میں مبتلا عورت ورثا کے کہنے پر مہر معاف کر سکتی ہے۔ مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری صاحب نے جواب دیا کہ باپ بالغ بیٹی کا مہر معاف نہیں کر سکتا، مہر اسی صورت معاف ہوگا جب عورت خوشی سے راضی ہو اور شوہر اعتراض نہ کرے۔ جواب میں یہ بھی ہے کہ مرض الموت میں معاف کرنا محض اسی سے معتبر نہیں اور اس کے لیے دوسرے ورثا کی رضامندی ضروری ہے۔

    جواب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری، دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ FatwaQA.com پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • منگنی

    کیا لڑکے کے لیے ضروری ہے کہ لڑکی کے گھر والوں سے نکاح کی بات چیت میں اپنے گھر والوں کو شامل کرے؟

    ایک نوجوان چاہتا تھا کہ نکاح کی بات لڑکی کے والدین سے خود کرے اور اپنے گھر والوں کو بعد میں شامل کرے، تاکہ سادہ نکاح کا اس کا ارادہ متاثر نہ ہو۔ جواب میں کہا گیا کہ ہر بات چیت میں اپنے گھر والوں کو شریک کرنا لازم نہیں، البتہ جھوٹ بولنا یا بہانوں سے ٹالنا جائز نہیں، اور مشورہ دیا گیا کہ وہ لڑکی کے گھر والوں کے سامنے اپنی خواہشات صاف صاف رکھے۔ جواب میں یہ بھی آیا کہ شوہر پر مہر دینا ضروری ہے، جبکہ جہیز کی صورت میں وہ کچھ نہ مانگنے کا اختیار رکھتا ہے۔

    جواب: افتا ریسرچ فیلو، FatwaCentre.org (بذریعہ IslamQA.org)نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ IslamQA.org پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • نکاح

    کیا لڑکی کے سرپرست کا نکاح کے بدلے مہر اور جہیز کے علاوہ رقم مانگنا جائز ہے؟

    سوال اس رواج کے بارے میں تھا جس میں بعض علاقوں میں لڑکی کا باپ یا سرپرست نکاح کے بدلے مہر اور جہیز سے الگ بڑی رقم مانگتا ہے اور وہ رقم خود رکھ لیتا ہے۔ مفتی فضیل رضا عطاری صاحب نے جواب دیا کہ ایسی رقم کا مطالبہ کرنا اور لینا ناجائز و حرام ہے، کیونکہ یہ رشوت کے حکم میں ہے۔ جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ لینے والے پر توبہ کے ساتھ وہ رقم اس شخص کو واپس کرنا بھی لازم ہے جس سے لی گئی تھی۔

    جواب: مفتی فضیل رضا عطاری، دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ FatwaQA.com پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • منگنی

    کیا بغیر کسی معقول وجہ کے منگنی توڑنا جائز ہے؟

    سائل نے پوچھا کہ کیا کسی خاص وجہ کے بغیر منگنی ختم کی جا سکتی ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ منگنی صرف آئندہ نکاح کا ایک وعدہ ہے، کوئی لازمی بندھن نہیں، اس لیے جس نے خلوصِ نیت سے وعدہ کیا ہو اور بعد میں رشتہ نہ کرنا چاہے تو وہ اسے ختم کر سکتا ہے، اگرچہ بعض علما اسے ہلکا ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں۔ مزید یہ کہا گیا کہ وعدہ توڑنے کی نیت سے ہی وعدہ کرنا ناجائز ہے، اور خلوص سے دیے گئے تحائف واپس کرنا لازم نہیں، البتہ واپس کر دینا حسنِ اخلاق کے مطابق ہو سکتا ہے۔

    جواب: شیخ اکرام الحق میاں، FatwaCentre.org (بذریعہ IslamQA.org)نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ IslamQA.org پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • نکاح

    کیا غیر مسلم رشتہ دار نکاح میں شرکت کے لیے مسجد میں آ سکتے ہیں؟

    ایک جوڑے نے، جو حال ہی میں اسلام قبول کر چکے تھے، پوچھا کہ کیا دلہن کے غیر مسلم والد اور ایک دوسرے رشتہ دار مسجد میں ان کے نکاح کے موقع پر موجود ہو سکتے ہیں۔ مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب نے جواب دیا کہ غیر مسلم رشتہ دار مسجد میں آ سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ مناسب لباس پہنیں اور مسجد کے احترام کا خیال رکھیں۔ یہ جواب صرف مسجد میں آنے سے متعلق ہے، اس میں یہ بات زیرِ بحث نہیں آئی کہ وہ نکاح کے گواہ بن سکتے ہیں یا نہیں۔

    جواب: مفتی ابراہیم ڈیسائی، دارالافتاء محمودیہفتویٰ نمبر 14528نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ askimam.org پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

شادی کے بارے میں سنجیدہ ہیں؟ یہاں سب ہی ہیں۔

نکاپ ڈاؤن لوڈ کریں اور نکاح کی جانب پہلا قدم اٹھائیں۔

QR code: ایپ حاصل کرنے کے لیے فون کے کیمرے سے اسکین کریں
ایپ حاصل کرنے کے لیے فون کے کیمرے سے اسکین کریں