حق مہر: سوالات اور علمائے کرام کے جوابات

اس موضوع پر 3 سوالات موجود ہیں۔ ہر خلاصہ کسی مستند عالمِ دین کے جواب کو مختصراً پیش کرتا ہے اور مکمل فتوے کا ربط دیتا ہے۔

اس موضوع کے بارے میں

مہر، جسے حق مہر بھی کہا جاتا ہے، وہ تحفہ ہے جو شوہر نکاح کے موقع پر اپنی بیوی کو دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اسے صَداق اور فریضہ بھی کہا گیا ہے، اور یہ خود بیوی کی ملکیت ہوتا ہے، اس کے خاندان کی نہیں۔ مہر نقد رقم، سونا، جائیداد یا کوئی اور قیمتی چیز ہو سکتی ہے۔ خاندان اکثر یہ طے کرتے ہیں کہ اس کا کچھ حصہ نکاح کے وقت ادا ہو (معجّل) اور کچھ بعد میں (مؤجّل)، اور دونوں نکاح نامے میں درج کیے جاتے ہیں۔ مہر جہیز سے مختلف ہے؛ جہیز وہ گھریلو سامان ہے جو دلہن کے گھر والے دیتے ہیں، اور یہ نکاح کا حصہ نہیں بلکہ ایک سماجی رواج ہے۔

مہر سے متعلق سوالات عموماً اس کی مقدار اور شکل، رقم کے علاوہ کوئی اور چیز دینے، اس کی ادائیگی کے وقت، اور اسے کم یا معاف کرنے کے اختیار کے بارے میں ہوتے ہیں۔ بعض تفصیلات میں، مثلاً کم از کم مقدار کے بارے میں، علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہیں، اس لیے ذیل کے ہر جواب کو مکمل فتوے کے ساتھ پڑھیں اور اپنے معاملے میں کسی معتبر عالمِ دین سے رجوع کریں۔

سوالات و جوابات

  • کیا عمر بھر نماز کی پابندی کا وعدہ مہر کے بدلے میں ہو سکتا ہے؟

    سائل نے پوچھا کہ کیا شوہر کا یہ وعدہ کہ وہ زندگی بھر کوئی نماز نہیں چھوڑے گا، مہر کی جگہ لے سکتا ہے۔ مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی صاحب نے جواب دیا کہ مہر ایسی چیز ہونی چاہیے جو مال ہو اور اس کی قیمت ہو، جبکہ نماز کی پابندی مال نہیں، اس لیے وہ مہر نہیں بن سکتی۔ اگر ساتھ میں کم از کم دس درہم چاندی کے برابر رقم بھی طے ہوئی تھی تو وہی مہر ہے؛ اور اگر کچھ طے نہ ہوا یا رقم اس سے کم تھی تو بیوی کو اس کے والد کی طرف کی ہم مرتبہ عورتوں جیسا مہر ملے گا۔ مفتی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ وقت پر نماز پڑھنا اپنی جگہ فرض ہے اور جان بوجھ کر نماز چھوڑنا گناہ ہے۔

    جواب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی، دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)فتویٰ نمبر Nor-13055نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ FatwaQA.com پر پڑھیںیہ سوال الگ صفحے پر دیکھیں

  • کیا مہر کے ایک حصے کے طور پر نقد رقم کے ساتھ قرآن مجید کا نسخہ دیا جا سکتا ہے؟

    ایک شخص نے پوچھا کہ کیا وہ نقد رقم کے ساتھ مہر کے ایک حصے کے طور پر قرآن مجید کا نسخہ بھی دے سکتا ہے۔ مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب نے جواب دیا کہ مہر نقد کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے اور کسی چیز کی صورت میں بھی، اس لیے قرآن مجید دینا جائز ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ مہر ایسی چیز ہونی چاہیے جس کی شرعاً مالی قیمت ہو؛ اس کی کم از کم مقدار دس درہم چاندی (تقریباً 30.6 گرام) کی قیمت ہے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ لہٰذا قرآن مجید اسی صورت کافی ہے جب اس کی قیمت اس کم از کم مقدار کے برابر ہو، اور جواب میں فقہِ حنفی کی کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    جواب: مفتی ابراہیم ڈیسائی، دارالافتاء محمودیہفتویٰ نمبر 45871نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ askimam.org پر پڑھیںیہ سوال الگ صفحے پر دیکھیں

  • کیا نکاح کے بعد باپ یا خود دلہن مہر معاف کر سکتی ہے؟

    سوال یہ تھا کہ کیا باپ اپنی بالغ بیٹی کا مہر معاف کر سکتا ہے، اور کیا مرض الموت میں مبتلا عورت ورثا کے کہنے پر مہر معاف کر سکتی ہے۔ مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری صاحب نے جواب دیا کہ باپ بالغ بیٹی کا مہر معاف نہیں کر سکتا، مہر اسی صورت معاف ہوگا جب عورت خوشی سے راضی ہو اور شوہر اعتراض نہ کرے۔ جواب میں یہ بھی ہے کہ مرض الموت میں معاف کرنا محض اسی سے معتبر نہیں اور اس کے لیے دوسرے ورثا کی رضامندی ضروری ہے۔

    جواب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری، دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ FatwaQA.com پر پڑھیںیہ سوال الگ صفحے پر دیکھیں

متعلقہ مضامین

شادی کے تمام سوالات

شادی کے بارے میں سنجیدہ ہیں؟ یہاں سب ہی ہیں۔

نکاپ ڈاؤن لوڈ کریں اور نکاح کی جانب پہلا قدم اٹھائیں۔

QR code: ایپ حاصل کرنے کے لیے فون کے کیمرے سے اسکین کریں
ایپ حاصل کرنے کے لیے فون کے کیمرے سے اسکین کریں