شرعی نکاح کا طریقہ اور شرائط: ایجاب و قبول، گواہ، مہر اور ولی
اہم نکات
- نکاح کی بنیادی شرائط کیا ہیں؟ عام طور پر نکاح کے درست ہونے کے لیے یہ باتیں ضروری سمجھی جاتی ہیں:
- مہر کا شرعی حکم کیا ہے؟ قرآنِ مجید (سورۃ النساء 4:4) میں عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے ادا کرنے کا حکم آیا ہے۔
- نکاح نامہ اور اندراج کیوں ضروری ہے؟ پاکستان میں نکاح کا اندراج قانونی تقاضا ہے، اور نکاح نامہ دونوں فریقوں کے حقوق کا تحریری ثبوت ہوتا ہے۔
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات: کیا نکاح کے لیے مسجد ضروری ہے؟
اس رہنما میں
ہمارے ہاں نکاح کی تقریب میں کئی رسمیں ہوتی ہیں، مگر شرعی نکاح کا طریقہ دراصل بہت سادہ ہے۔ دو فریقوں کی رضامندی، ایجاب و قبول، گواہ اور مہر، بس یہی بنیاد ہے۔
بہت سے لوگ نکاح سے پہلے پوچھتے ہیں کہ اصل شرائط کون سی ہیں اور کون سی باتیں صرف رواج ہیں۔ اس تحریر میں ہم عام طور پر معروف حنفی طریقہ بیان کریں گے، اور جہاں علما میں اختلاف ہے وہاں صاف بتا دیں گے۔ یہ فتویٰ نہیں ہے۔ اپنی صورتِ حال کے لیے کسی معتبر عالم سے ضرور پوچھیں۔
نکاح کی بنیادی شرائط کیا ہیں؟
عام طور پر نکاح کے درست ہونے کے لیے یہ باتیں ضروری سمجھی جاتی ہیں:
- لڑکا اور لڑکی دونوں کی آزادانہ رضامندی، کسی دباؤ کے بغیر
- ایجاب و قبول، یعنی ایک طرف سے پیشکش اور دوسری طرف سے قبولیت، ایک ہی مجلس میں
- کم از کم دو گواہ جو نکاح کے وقت موجود ہوں
- مہر کا تعین یا کم از کم اس کا حق تسلیم کیا جانا
- نکاح کا کسی شرعی رکاوٹ سے خالی ہونا، مثلاً محرم رشتہ یا عدت
اوپر کی فہرست میں ولی کا ذکر الگ سے آئے گا، کیونکہ اس بارے میں مسالک کے درمیان واضح فرق ہے۔
ایجاب و قبول کیسے ہوتا ہے؟
ایجاب و قبول نکاح کا مرکزی حصہ ہے۔ عملاً یوں ہوتا ہے کہ ولی یا وکیل لڑکی کی طرف سے مہر کے ساتھ نکاح کی پیشکش کرتا ہے، اور لڑکا گواہوں کے سامنے کہتا ہے کہ میں نے قبول کیا۔
الفاظ صاف اور واضح ہونے چاہییں، اور پیشکش اور قبولیت ایک ہی مجلس میں ہونی چاہییں۔ ہمارے ہاں عموماً نکاح خواں لڑکی سے پہلے اجازت لیتا ہے، پھر دو گواہوں کے سامنے یہ مرحلہ مکمل کرتا ہے۔
- نکاح خواں لڑکی کی رضامندی معلوم کرتا ہے، براہِ راست یا اس کے وکیل اور گواہوں کے ذریعے۔
- مہر کی رقم یا چیز طے ہو کر دہرائی جاتی ہے۔
- ایجاب ہوتا ہے، اور لڑکا قبول کرتا ہے۔
- گواہ سنتے ہیں اور نکاح نامے پر دستخط کرتے ہیں۔
- خطبۂ نکاح پڑھا جاتا ہے اور سب مل کر دعا کرتے ہیں۔
نکاح میں گواہ کتنے اور کیسے ہونے چاہییں؟
جمہور فقہا کے نزدیک نکاح کے لیے گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ حنفی فقہ میں دو مرد، یا ایک مرد اور دو عورتیں کافی سمجھی جاتی ہیں۔ دوسرے مسالک میں عموماً دو مرد گواہوں پر زور ملتا ہے۔
گواہ عاقل، بالغ اور مسلمان ہوں، اور انہوں نے ایجاب و قبول کے الفاظ خود سنے ہوں۔ نکاح کا اعلان بھی مسنون ہے، تاکہ یہ چھپا ہوا معاملہ نہ لگے۔
مہر کا شرعی حکم کیا ہے؟
قرآنِ مجید (سورۃ النساء 4:4) میں عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے ادا کرنے کا حکم آیا ہے۔ مہر لڑکی کا اپنا حق ہے، اس کے گھر والوں کا نہیں۔
مہر کی مقدار طے کرتے وقت دونوں خاندانوں کی حیثیت اور آسانی کا خیال رکھا جاتا ہے۔ مؤجل اور معجل کی تقسیم بھی عام ہے۔
نکاح میں ولی کی کیا حیثیت ہے؟
جمہور علما کے نزدیک ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا۔ حنفی فقہ میں بالغ، عاقلہ لڑکی کا اپنے نکاح کا فیصلہ خود کرنا بھی بعض شرائط کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے، مگر عام طور پر ولی کی شمولیت کی تاکید کی جاتی ہے۔
اس اختلاف کو سمجھنے کے لیے ولی اور وکیل میں فرق اور ولی کون بن سکتا ہے پڑھ لینا مفید ہے۔ اپنی صورت کے لیے عالم سے پوچھیں۔
نکاح نامہ اور اندراج کیوں ضروری ہے؟
پاکستان میں نکاح کا اندراج قانونی تقاضا ہے، اور نکاح نامہ دونوں فریقوں کے حقوق کا تحریری ثبوت ہوتا ہے۔ مہر، شرائط اور گواہوں کے نام اس میں درج ہوتے ہیں۔
نکاح نامہ پُر کرتے وقت خانے خالی نہ چھوڑیں اور ہر شق کو توجہ سے پڑھیں۔ ملک یا شہر کے لحاظ سے اندراج کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے مقامی نکاح رجسٹرار سے معلوم کر لیں۔
نکاح سے پہلے کی تیاری اور رشتہ کیسے طے کریں؟
شرائط پوری کرنا اپنی جگہ، لیکن نکاح سے پہلے کی بات چیت زیادہ اہم ہے۔ رشتہ طے کرتے وقت دونوں خاندان اخلاق، دین اور مزاج کی بات کھل کر کریں، اور استخارہ بھی کریں۔
اگر آپ کا ارادہ سنجیدہ ہے اور آپ رشتہ تلاش کر رہے ہیں تو اہلِ خانہ کو ساتھ رکھنا بہتر ہے۔ نکاپ جیسی ایپ میں ولی اور فیملی موڈ موجود ہے، اور خواتین کے لیے یہ ہمیشہ مفت ہے۔ مزید جاننا چاہیں تو خاندان اور ولی کے لیے صفحہ دیکھیں۔ پاکستان میں رشتہ تلاش کرنے والے پاکستان کا صفحہ بھی دیکھ سکتے ہیں۔
ایپ صرف تعارف کا ذریعہ ہے۔ نکاح، مہر اور اندراج وہی طریقہ ہے جو اوپر بیان ہوا۔
نکاح کے بعد ولیمہ اور دیگر آداب
نکاح کے بعد ولیمہ مسنون ہے۔ اس میں سادگی اور اعتدال بہتر ہے، اور مقصد خوشی کا اظہار ہے، نمود نہیں۔ اخراجات کم رکھنے سے دونوں خاندانوں پر بوجھ نہیں پڑتا اور نئی زندگی سکون سے شروع ہوتی ہے۔
قرآنِ مجید (سورۃ الروم 30:21) میں میاں بیوی کے درمیان مودت اور رحمت کا ذکر آیا ہے۔ نکاح کے طریقے کے ساتھ اس مقصد کو بھی یاد رکھیں۔
ایپ کے خرچ کے بارے میں نکاپ کی قیمتیں دیکھ سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا نکاح کے لیے مسجد ضروری ہے؟ نہیں۔ نکاح گھر، ہال یا مسجد، کہیں بھی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ شرائط پوری ہوں۔ مسجد میں کرنا پسندیدہ ہے مگر لازم نہیں۔
کیا ٹیلیفون یا آن لائن نکاح ہو سکتا ہے؟ اس بارے میں علما کی آرا مختلف ہیں۔ بعض صورتوں میں وکیل اور گواہوں کی موجودگی کی شرط رکھی جاتی ہے۔ اپنے عالم سے پوچھ کر آگے بڑھیں۔
کیا مہر بعد میں بڑھایا جا سکتا ہے؟ ہاں، باہمی رضامندی سے مہر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ ہر تبدیلی تحریر میں آ جائے۔