مہر میں رقم سے زیادہ ادا کرنے کی نیت کیوں اہم ہے؟
اہم نکات
- مہر آخر مقرر ہی کیوں کیا جاتا ہے؟ کتاب میں اس کی حکمت یہ بیان ہوئی کہ شوہر بلا ضرورت نکاح کے تعلق کو آسانی سے نہ توڑ سکے، کیونکہ مہر کی صورت میں مال کے نقصان کا خطرہ سامنے رہتا ہے۔
- بہت زیادہ مہر الٹا نقصان کیوں دیتا ہے؟ مصنف نے وسعت سے زیادہ مہر مقرر کرنے کے نقصانات گنوائے ہیں:
- کیا کم مہر بے عزتی کی بات ہے؟ بعض گھرانے ڈرتے ہیں کہ کم مہر لڑکی کی توہین لگے گا۔
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات: کیا اسلام میں مہر لازم ہے؟
اس رہنما میں
اکثر گھرانوں میں مہر کی بات صرف رقم پر آ کر رک جاتی ہے: کتنا لکھا جائے، نکاح میں کیسا سنائی دے گا، دوسروں نے کتنا رکھا۔ بہت کم لوگ وہ سوال کرتے ہیں جو سب سے اہم ہے: کیا دولہا کا ادا کرنے کا ارادہ بھی ہے؟
یہ تحریر حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تعلیمات کے مجموعے "اسلامی شادی" (ترتیب: محمد زید مظاہری ندوی) کے باب "مہر کا بیان" سے لی گئی ہے۔ پیغام سادہ ہے: اپنی وسعت کے مطابق مہر مقرر کیجیے اور ادا کرنے کی پکی نیت رکھیے۔ ابتدائی باتیں پہلے دیکھنی ہوں تو حق مہر کتنا ہونا چاہیے پڑھیں۔
مہر آخر مقرر ہی کیوں کیا جاتا ہے؟
کتاب میں اس کی حکمت یہ بیان ہوئی کہ شوہر بلا ضرورت نکاح کے تعلق کو آسانی سے نہ توڑ سکے، کیونکہ مہر کی صورت میں مال کے نقصان کا خطرہ سامنے رہتا ہے۔ اس سے نکاح میں ایک طرح کی پائیداری آتی ہے اور نکاح ایک کھلا، باعزت معاہدہ بنتا ہے۔ قرآن مجید (سورۃ النساء ۴:۴) میں شوہروں کو حکم ہے کہ بیویوں کا مہر خوش دلی سے دیں۔
یعنی مہر بیوی اور رشتے کی حفاظت ہے، مگر تبھی جب وہ واقعی ذمہ داری سمجھا جائے، دکھاوے کا عدد نہ ہو۔
سب سے عام غلطی: ادا کرنے کی نیت ہی نہ ہونا
مصنف اسے سب سے سخت غلطی قرار دیتے ہیں۔ بہت سے مرد دل میں مہر دینے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے۔ بیوی مطالبہ کرے، طلاق ہو یا کسی کی وفات ہو جائے، ادا کرنے کی نیت پہلے دن بھی نہیں تھی۔
لوگ اسے ہلکا لیتے ہیں اور بے تکلفی سے کہہ دیتے ہیں: "مہر تو بس نام کا ہوتا ہے، کون دیتا ہے اور کون لیتا ہے؟" کتاب کا کہنا ہے کہ یہی سوچ جب گھرانوں میں عام ہو جائے تو مہر اپنا مقصد کھو دیتا ہے۔
مہر بیوی کا حق ہے اور شوہر کے ذمے قرض ہے۔ علماء اس بات سے خبردار کرتے ہیں کہ کوئی شخص ادا نہ کرنے کی نیت سے قرض لے، اور مہر بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ اپنی صورتِ حال کا حکم جاننے کے لیے کسی معتبر عالم سے رجوع کریں۔
بہت زیادہ مہر الٹا نقصان کیوں دیتا ہے؟
مصنف نے وسعت سے زیادہ مہر مقرر کرنے کے نقصانات گنوائے ہیں:
- ادا نہیں ہوتا۔ جب اصل ارادہ ہی ادا کرنے کا نہ ہو تو بڑی رقم محض ایک عدد رہ جاتی ہے۔
- دل پر بوجھ بنتا ہے۔ اگر شوہر ادا کرنا بھی چاہے تو فکر اور الجھن میں رہتا ہے، اور یہ دباؤ بیوی کے خلاف دل کی تنگی میں بدل سکتا ہے۔
- جھگڑا بدترین وقت پر کھڑا ہوتا ہے۔ طلاق یا وفات کے بعد بڑا غیر ادا شدہ مہر قانونی اور خاندانی لڑائی بن جاتا ہے۔ کتاب بتاتی ہے کہ جہاں رقم لاکھوں میں ہو، وہاں پوری جائیداد اس کی نذر ہو سکتی ہے اور شوہر یا اس کے ورثاء مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔
ایک عملی بات یہ بھی ہے کہ جو شوہر بوجھ تلے دب کر بھاری مہر ادا کرتا ہے، اس کے دل میں اسی رشتے سے بے زاری پیدا ہو سکتی ہے جس کی عزت کے لیے مہر رکھا گیا تھا۔
ہلکے مہر کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی تعلیم
باب میں آسان مہر کی ترغیب والی روایات جمع کی گئی ہیں۔ ان میں ذکر ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں لوگوں کو مہر بڑھانے سے منع کیا، اور فرمایا کہ اگر یہ دنیا میں عزت یا اللہ کے نزدیک تقویٰ کی بات ہوتی تو سب سے زیادہ حق دار رسول اللہ ﷺ ہوتے، مگر آپ ﷺ کی ازواج اور صاحبزادیوں کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی سے زیادہ نہ تھا۔ کتاب میں اس کا حوالہ کنز العمال کا ہے۔
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ عورت کی برکت میں یہ بھی ہے کہ اس کا مہر آسان ہو، اور ایک میں مہر میں آسانی اختیار کرنے کی تلقین ہے۔ یہاں انہیں کتاب سے مفہوماً لیا گیا ہے، لفظ بہ لفظ نہیں؛ براہِ کرم کسی معتبر کتاب اور عالم سے تصدیق کر لیں۔
کیا کم مہر بے عزتی کی بات ہے؟
بعض گھرانے ڈرتے ہیں کہ کم مہر لڑکی کی توہین لگے گا۔ کتاب اس کے تین جواب دیتی ہے۔ معتدل اور مناسب رقم ذلت نہیں۔ بہت بڑی رقم جو کبھی ادا نہ ہو، اس میں نقصان کہیں زیادہ ہے۔ اور عزت حق ادا کرنے میں ہے، زبان سے بولے گئے عدد میں نہیں۔
ادا کرنے کے پکے ارادے کے ساتھ رکھا گیا معتدل مہر، اس بھاری رقم سے زیادہ احترام ہے جس کے بارے میں سب جانتے ہوں کہ وہ کبھی ادا نہیں ہوگی۔
عملی طور پر کیا کریں؟
- کھل کر بات کریں کہ دولہا کتنا ادا کر سکتا ہے، یہ نہیں کہ دوسروں نے کتنا رکھا۔
- اس کی وسعت کے اندر مہر طے کریں، اور یہ بھی کہ کتنا نکاح پر اور کتنا بعد میں ادا ہوگا۔
- آپس میں ادا کرنے کی نیت واضح کریں اور نکاح نامے میں صاف لکھوائیں۔
- اگر کچھ حصہ مؤخر ہو تو تاریخ یا منصوبہ طے کریں اور اس پر قائم رہیں۔
- ادا کریں۔ بیوی اپنی خوشی سے کچھ معاف کرنا چاہے تو کر سکتی ہے، مگر یہ اس کا آزاد فیصلہ ہو، دباؤ نہ ہو۔
مصنف اپنا تجربہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اپنی بیویوں کا مہر ادا کرتے ہوئے ایک مہر آمدنی اور ہدیوں سے آسانی سے ادا ہو گیا، اور دوسرا کچھ محنت سے مگر دل پر بوجھ بنے بغیر۔ سبق یہ ہے کہ ایسی رقم رکھیں جس تک پہنچنا ممکن ہو، اور پھر ادا کریں۔
جو گھرانے یہ سادہ اور سچا طریقہ پسند کرتے ہیں، وہ شروع ہی سے پرسکون گفتگو چاہتے ہیں۔ نکاپ پر آپ ولی یا خاندان کو بات چیت میں شامل کر سکتے ہیں، اور خواتین کے لیے یہ ہمیشہ مفت ہے، اور ایپ گوگل پلے پر دستیاب ہے۔ باقی تیاری کے لیے شرعی نکاح کا طریقہ دیکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا اسلام میں مہر لازم ہے؟ جی ہاں، علماء کا اتفاق ہے کہ مہر بیوی کا حق ہے۔ رقم زوجین باہمی رضامندی سے طے کرتے ہیں، اور اسلام آسانی کی ترغیب دیتا ہے۔
اگر شوہر ابھی پورا مہر ادا نہ کر سکے تو؟ واضح منصوبہ بنائیں، نکاح پر جتنا طے ہو دیں، باقی طے شدہ وقت پر دیں، اور اس پر قائم رہیں۔ حالات بدلیں تو کسی عالم سے پوچھ لیں۔
کیا بیوی مہر معاف کر سکتی ہے؟ ہاں، اگر وہ اپنی خوشی اور رضا سے کرے۔ اس سے مطالبہ یا دباؤ کے ذریعے معاف کروانا درست نہیں، کیونکہ قرآن اسے عورت کے لیے عطیہ قرار دیتا ہے۔