خاندان اور ولی

نکاح میں ولی کون بن سکتا ہے؟ شرائط اور ولیوں کی ترتیب

اہم نکات

  • ولی کی شرائط کیا ہیں؟ فقہاء نے ولی کے لیے چند شرائط بیان کی ہیں، جن میں سے اکثر پر اتفاق ہے:
  • جس کا کوئی مسلمان ولی نہ ہو: نو مسلم خواتین اور بعض دوسری خواتین کا کوئی مسلمان مرد رشتہ دار نہیں ہوتا۔
  • ولی کیا نہیں کر سکتا: ولی ہونا ذمہ داری ہے، ملکیت نہیں۔
  • اکثر پوچھے جانے والے سوالات: والد کی موجودگی میں کیا بھائی ولی بن سکتا ہے؟
اس رہنما میں

نکاح میں ولی وہ سرپرست ہے جو لڑکی کے مفاد کی حفاظت کرتا ہے، رشتے کو پرکھنے میں مدد دیتا ہے اور نکاح کے عقد میں شریک ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ لڑکی کے والد ہوتے ہیں۔ لیکن اگر والد حیات نہ ہوں، بیرونِ ملک ہوں یا کسی وجہ سے یہ ذمہ داری ادا نہ کر سکیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ولی کون بن سکتا ہے؟

ولی کے کردار کی مکمل وضاحت ہمارے انگریزی مضمون اسلام میں ولی کیا ہے؟ میں موجود ہے۔

اس مضمون میں ہم وہ باتیں بیان کرتے ہیں جن پر فقہاء متفق ہیں، اور ان نکات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں جن میں مسالک کا اختلاف ہے۔ اپنے معاملے کے لیے کسی مستند عالم یا مفتی سے ضرور رجوع کریں۔

ولی کی شرائط کیا ہیں؟

فقہاء نے ولی کے لیے چند شرائط بیان کی ہیں، جن میں سے اکثر پر اتفاق ہے:

  • مسلمان ہونا: غیر مسلم شخص مسلمان لڑکی کا ولی نہیں بن سکتا۔
  • عاقل ہونا: جو شخص فیصلے کو سمجھ ہی نہ سکے، وہ کسی کی حفاظت کیسے کرے گا۔
  • بالغ ہونا: ولی کا بالغ ہونا ضروری ہے۔
  • مرد ہونا: جمہور فقہاء کے نزدیک نکاح کے عقد میں ولی مرد ہوتا ہے۔
  • دیانت دار اور سمجھ دار ہونا: بعض فقہاء، خاص طور پر شافعی اور حنبلی، ولی کے عادل اور قابلِ اعتماد ہونے کی شرط بھی لگاتے ہیں، جبکہ دوسرے اس میں نرمی کرتے ہیں۔

ان شرائط میں دولت یا رتبے کا کوئی ذکر نہیں۔ ولی قرابت اور خیر خواہی کی بنیاد پر ہوتا ہے، طاقت کی بنیاد پر نہیں۔

ولیوں کی ترتیب: پہلے کون؟

ولایت عام طور پر لڑکی کے والد کی طرف کے قریبی مرد رشتہ داروں (عصبہ) کو حاصل ہوتی ہے۔ فقہ کی کتابوں میں کچھ فرق کے ساتھ عام ترتیب یہ ہے:

  1. والد؛
  2. دادا، اور اسی طرح اوپر والد کی نسل میں؛
  3. سگا بھائی، پھر باپ شریک بھائی؛
  4. بھائیوں کے بیٹے (بھتیجے)؛
  5. چچا، پھر ان کے بیٹے (چچا زاد بھائی)۔

اس ترتیب میں مسالک کا کچھ اختلاف ہے۔ مثال کے طور پر حنفی اور مالکی فقہاء پہلے سے شادی شدہ عورت کے بالغ بیٹے کو ترتیب میں بہت آگے رکھتے ہیں، جبکہ شافعی فقہ میں صرف بیٹا ہونا ولایت کی بنیاد نہیں۔ بعض فقہاء ددھیال میں کوئی نہ ہو تو ننھیال کے رشتہ داروں کو بھی ولی مانتے ہیں، جبکہ دوسرے براہِ راست قاضی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

اگر قریبی ولی موجود نہ ہو یا انکار کرے؟

  • بیرونِ ملک یا دور ہوں: والد فون یا ویڈیو کال پر شریک ہو سکتے ہیں، یا نکاح کے لیے کسی کو اپنا وکیل مقرر کر سکتے ہیں۔ تفصیل کے لیے ولی اور وکیل میں فرق پڑھیں۔
  • بغیر معقول وجہ کے انکار: اگر ولی کسی موزوں اور ہم پلہ رشتے کو بلا وجہ روکے تو فقہاء کے نزدیک ولایت اگلے ولی یا قاضی کو منتقل ہو سکتی ہے۔ قرآن مجید (سورۃ البقرہ، آیت 232) میں سرپرستوں کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ عورتوں کو مناسب طریقے سے نکاح کرنے سے روکیں۔
  • معقول وجہ سے انکار: کردار، دین داری یا سچائی کے بارے میں خدشات ہی تو وہ چیز ہیں جن کے لیے ولی ہوتا ہے۔ انہیں سنجیدگی سے سنیں۔

جس کا کوئی مسلمان ولی نہ ہو

نو مسلم خواتین اور بعض دوسری خواتین کا کوئی مسلمان مرد رشتہ دار نہیں ہوتا۔ فقہاء اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو ابو داؤد اور ترمذی میں ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کا کوئی ولی نہ ہو، حاکم اس کا ولی ہے۔ عملی طور پر یہ ذمہ داری قاضی، شرعی عدالت، کسی مستند امام یا اسلامی مرکز کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔

غیر مسلم والد نکاح کے عقد میں ولی نہیں بن سکتے، لیکن وہ والد ہی رہتے ہیں۔ بہت سی نو مسلم خواتین اپنے والدین کی دعا اور رضامندی بھی ساتھ رکھتی ہیں اور انہیں شادی میں مدعو کرتی ہیں۔

ولی کیا نہیں کر سکتا

ولی ہونا ذمہ داری ہے، ملکیت نہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کا مفہوم ہے کہ شادی شدہ رہ چکی عورت سے مشورہ لیا جائے اور کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے۔ زبردستی کی شادی اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

نکاپ پر ولی کی شمولیت

آن لائن رشتے میں ولی کی حفاظت اور بھی ضروری ہے۔ نکاح ایپ نکاپ پر لڑکی اپنے والد، بھائی یا کسی سرپرست کو ایک محفوظ لنک سے گفتگو میں شامل کر سکتی ہے، ولی گفتگو دیکھ اور اس میں حصہ لے سکتے ہیں، اور دونوں طرف کی رضامندی سے خاندان رابطے کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ مزید جاننے کے لیے خاندان اور ولی کا صفحہ اور پاکستان کے لیے اسلامی رشتہ ایپ دیکھیں۔

ولی کی شمولیت مردوں کے لیے بھی مفت بنیادی سہولیات میں شامل ہے، اور نکاپ خواتین کے لیے ہمیشہ مفت ہے، اس لیے خاندان کو ساتھ رکھنے کے لیے کوئی ادائیگی ضروری نہیں۔ اینڈرائیڈ فون پر نکاپ نکاح ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پہلی گفتگو سے ہی اپنے ولی کو شامل کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

والد کی موجودگی میں کیا بھائی ولی بن سکتا ہے؟ اکثر مسالک میں نہیں، جب تک والد موجود اور اہل ہوں، الا یہ کہ والد اسے اپنا نمائندہ بنا دیں۔

کیا ماں ولی بن سکتی ہے؟ جمہور فقہاء کے نزدیک نکاح کے عقد میں ولی مرد ہوتا ہے، لیکن ماں کا مشورہ ہر رشتے کے فیصلے میں بے حد قیمتی ہے۔

کیا امام ولی بن سکتا ہے؟ جی ہاں، جس خاتون کا کوئی اہل ولی نہ ہو، اس کے لیے امام یا شرعی ذمہ دار ولی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

کیا ولی کے بغیر نکاح ہو سکتا ہے؟ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ تفصیل کے لیے ولی کے بغیر نکاح پڑھیں۔

شادی کے بارے میں سنجیدہ ہیں؟ یہاں سب ہی ہیں۔

نکاپ ڈاؤن لوڈ کریں اور نکاح کی جانب پہلا قدم اٹھائیں۔

QR code: ایپ حاصل کرنے کے لیے فون کے کیمرے سے اسکین کریں
ایپ حاصل کرنے کے لیے فون کے کیمرے سے اسکین کریں