کیا نکاح کے بعد باپ یا خود دلہن مہر معاف کر سکتی ہے؟
خلاصہ
سوال یہ تھا کہ کیا باپ اپنی بالغ بیٹی کا مہر معاف کر سکتا ہے، اور کیا مرض الموت میں مبتلا عورت ورثا کے کہنے پر مہر معاف کر سکتی ہے۔ مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری صاحب نے جواب دیا کہ باپ بالغ بیٹی کا مہر معاف نہیں کر سکتا، مہر اسی صورت معاف ہوگا جب عورت خوشی سے راضی ہو اور شوہر اعتراض نہ کرے۔ جواب میں یہ بھی ہے کہ مرض الموت میں معاف کرنا محض اسی سے معتبر نہیں اور اس کے لیے دوسرے ورثا کی رضامندی ضروری ہے۔
شادی سے متعلق مزید سوالات
کیا عمر بھر نماز کی پابندی کا وعدہ مہر کے بدلے میں ہو سکتا ہے؟
سائل نے پوچھا کہ کیا شوہر کا یہ وعدہ کہ وہ زندگی بھر کوئی نماز نہیں چھوڑے گا، مہر کی جگہ لے سکتا ہے۔ مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی صاحب نے جواب دیا کہ مہر ایسی چیز ہونی چاہیے جو مال ہو اور اس کی قیمت ہو، جبکہ نماز کی پابندی مال نہیں، اس لیے وہ مہر نہیں بن سکتی۔ اگر ساتھ میں کم از کم دس درہم چاندی کے برابر رقم بھی طے ہوئی تھی تو وہی مہر ہے؛ اور اگر کچھ طے نہ ہوا یا رقم اس سے کم تھی تو بیوی کو اس کے والد کی طرف کی ہم مرتبہ عورتوں جیسا مہر ملے گا۔ مفتی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ وقت پر نماز پڑھنا اپنی جگہ فرض ہے اور جان بوجھ کر نماز چھوڑنا گناہ ہے۔
مکمل فتویٰ FatwaQA.com پر پڑھیںیہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔
کیا مہر کے ایک حصے کے طور پر نقد رقم کے ساتھ قرآن مجید کا نسخہ دیا جا سکتا ہے؟
ایک شخص نے پوچھا کہ کیا وہ نقد رقم کے ساتھ مہر کے ایک حصے کے طور پر قرآن مجید کا نسخہ بھی دے سکتا ہے۔ مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب نے جواب دیا کہ مہر نقد کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے اور کسی چیز کی صورت میں بھی، اس لیے قرآن مجید دینا جائز ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ مہر ایسی چیز ہونی چاہیے جس کی شرعاً مالی قیمت ہو؛ اس کی کم از کم مقدار دس درہم چاندی (تقریباً 30.6 گرام) کی قیمت ہے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ لہٰذا قرآن مجید اسی صورت کافی ہے جب اس کی قیمت اس کم از کم مقدار کے برابر ہو، اور جواب میں فقہِ حنفی کی کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔
مکمل فتویٰ askimam.org پر پڑھیںیہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔
کئی سال پہلے تین طلاقوں کے بعد کیا سابقہ بیوی اس کے گھر میں رہ سکتی ہے، اور کیا اسے نفقہ یا جائیداد میں حق ملتا ہے؟
ایک شخص نے بتایا کہ اس نے تقریباً انیس سال پہلے بیوی کو تحریری طور پر تین طلاقیں دیں، مگر وہ اب بھی اس کے ذاتی گھر میں رہ رہی ہے اور نکلنے سے انکاری ہے، اور پوچھا کہ یہ جائز ہے یا نہیں، کیا اسے رہائش اور خرچ دینا لازم ہے، اور کیا اس کا جائیداد میں کوئی حق ہے۔ محمد یعقوب علی صاحب نے جواب دیا کہ تین طلاقوں سے نکاح مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے، اس لیے تحریری طلاقیں اسی وقت واقع ہو گئیں۔ عدت پوری ہونے کے بعد وہ شرعاً اس کے لیے اجنبی ہے، لہٰذا شوہر پر نہ نفقہ لازم ہے اور نہ رہائش، اور محض سابقہ نکاح کی بنا پر اسے جائیداد میں حصہ بھی نہیں ملتا۔ اس کا گھر میں ٹھہرنے پر اصرار اور جائیداد کا دعویٰ جائز نہیں، اسے چاہیے کہ باز آ جائے۔ جواب فتاویٰ ہندیہ اور بدائع الصنائع جیسی فقہی کتابوں پر مبنی ہے، اور اس میں بیٹوں کے معاملے یا عدالتی کارروائی پر بات نہیں کی گئی۔
مکمل فتویٰ OnlineFatawa.com پر پڑھیںیہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔