طلاق: سوالات اور علمائے کرام کے جوابات

اس موضوع پر 2 سوالات موجود ہیں۔ ہر خلاصہ کسی مستند عالمِ دین کے جواب کو مختصراً پیش کرتا ہے اور مکمل فتوے کا ربط دیتا ہے۔

اس موضوع کے بارے میں

طلاق سے مراد وہ علیحدگی ہے جو شوہر کی طرف سے دی جائے۔ نکاح خلع کے ذریعے بھی ختم ہو سکتا ہے، جس میں بیوی علیحدگی کا مطالبہ کرتی ہے، اکثر اپنا مہر یا اس کا کچھ حصہ واپس کرنے کے بدلے، یا کسی عدالت یا دوسرے مجاز ادارے کے ذریعے نکاح فسخ ہونے سے۔ طلاق کے بعد بیوی دوسرا نکاح کرنے سے پہلے عدت گزارتی ہے، جو انتظار کی ایک مدت ہے، اور اس دوران بعض حقوق اور ذمہ داریاں برقرار رہتی ہیں۔

چونکہ استعمال کیے گئے الفاظ، دی گئی طلاقوں کی تعداد اور حالات، سب نتیجے کو بدل سکتے ہیں، اس لیے طلاق کے سوالات ان سوالات میں شامل ہیں جن میں علمائے کرام سے سب سے زیادہ تفصیل طلب کی جاتی ہے۔ لوگ عموماً پوچھتے ہیں کہ کیا بعض الفاظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، ایک، دو یا تین طلاقوں کے بعد کیا ہوتا ہے، طلاق یافتہ بیوی عدت کہاں گزارے، اور خلع کا طریقہ کیا ہے۔ ان معاملات کے نتائج سنجیدہ اور دیرپا ہوتے ہیں، اس لیے ذیل کے خلاصوں کو صرف ابتدائی معلومات سمجھیں: مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں اور کسی بھی حقیقی معاملے میں کسی مستند عالمِ دین یا دارالافتاء سے رجوع کریں۔

سوالات و جوابات

  • کئی سال پہلے تین طلاقوں کے بعد کیا سابقہ بیوی اس کے گھر میں رہ سکتی ہے، اور کیا اسے نفقہ یا جائیداد میں حق ملتا ہے؟

    ایک شخص نے بتایا کہ اس نے تقریباً انیس سال پہلے بیوی کو تحریری طور پر تین طلاقیں دیں، مگر وہ اب بھی اس کے ذاتی گھر میں رہ رہی ہے اور نکلنے سے انکاری ہے، اور پوچھا کہ یہ جائز ہے یا نہیں، کیا اسے رہائش اور خرچ دینا لازم ہے، اور کیا اس کا جائیداد میں کوئی حق ہے۔ محمد یعقوب علی صاحب نے جواب دیا کہ تین طلاقوں سے نکاح مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے، اس لیے تحریری طلاقیں اسی وقت واقع ہو گئیں۔ عدت پوری ہونے کے بعد وہ شرعاً اس کے لیے اجنبی ہے، لہٰذا شوہر پر نہ نفقہ لازم ہے اور نہ رہائش، اور محض سابقہ نکاح کی بنا پر اسے جائیداد میں حصہ بھی نہیں ملتا۔ اس کا گھر میں ٹھہرنے پر اصرار اور جائیداد کا دعویٰ جائز نہیں، اسے چاہیے کہ باز آ جائے۔ جواب فتاویٰ ہندیہ اور بدائع الصنائع جیسی فقہی کتابوں پر مبنی ہے، اور اس میں بیٹوں کے معاملے یا عدالتی کارروائی پر بات نہیں کی گئی۔

    جواب: محمد یعقوب علی، دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہفتویٰ نمبر 100332نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ OnlineFatawa.com پر پڑھیںیہ سوال الگ صفحے پر دیکھیں

  • جب بیوی طلاق مانگے اور شوہر کہے 'تمہیں اجازت ہے' تو کیا طلاق ہو جاتی ہے؟

    ایک شخص کی شادی کو تقریباً ڈھائی سال ہوئے تھے اور آپس میں اکثر جھگڑا رہتا تھا؛ جب بھی بیوی طلاق مانگتی تو وہ کہتا 'تمہیں میری اجازت ہے'، اور اس نے پوچھا کہ کیا طلاق ہو گئی۔ اظہر امین صاحب نے جواب دیا کہ اگر اس نے صرف یہی الفاظ کہے اور طلاق کی نیت نہیں تھی تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح قائم ہے۔ جواب میں فقہِ حنفی کی کتابوں کے حوالے سے یہ اصول بتایا گیا کہ طلاق کے لیے طلاق کا معتبر لفظ ہونا ضروری ہے، اور بیوی کے مطالبے پر ایسا جواب طلاق شمار نہیں ہوتا۔ میاں بیوی کو یہ نصیحت بھی کی گئی کہ آئندہ طلاق کا ذکر اور اس پر بحث سے بچیں تاکہ بعد میں پچھتانا نہ پڑے۔ جواب میں مختلف الفاظ یا طلاق کی نیت والی صورت پر بات نہیں کی گئی۔

    جواب: اظہر امین، دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہفتویٰ نمبر 99452نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ OnlineFatawa.com پر پڑھیںیہ سوال الگ صفحے پر دیکھیں

متعلقہ مضامین

شادی کے تمام سوالات

شادی کے بارے میں سنجیدہ ہیں؟ یہاں سب ہی ہیں۔

نکاپ ڈاؤن لوڈ کریں اور نکاح کی جانب پہلا قدم اٹھائیں۔

QR code: ایپ حاصل کرنے کے لیے فون کے کیمرے سے اسکین کریں
ایپ حاصل کرنے کے لیے فون کے کیمرے سے اسکین کریں