کئی سال پہلے تین طلاقوں کے بعد کیا سابقہ بیوی اس کے گھر میں رہ سکتی ہے، اور کیا اسے نفقہ یا جائیداد میں حق ملتا ہے؟
ایک شخص نے بتایا کہ اس نے تقریباً انیس سال پہلے بیوی کو تحریری طور پر تین طلاقیں دیں، مگر وہ اب بھی اس کے ذاتی گھر میں رہ رہی ہے اور نکلنے سے انکاری ہے، اور پوچھا کہ یہ جائز ہے یا نہیں، کیا اسے رہائش اور خرچ دینا لازم ہے، اور کیا اس کا جائیداد میں کوئی حق ہے۔ محمد یعقوب علی صاحب نے جواب دیا کہ تین طلاقوں سے نکاح مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے، اس لیے تحریری طلاقیں اسی وقت واقع ہو گئیں۔ عدت پوری ہونے کے بعد وہ شرعاً اس کے لیے اجنبی ہے، لہٰذا شوہر پر نہ نفقہ لازم ہے اور نہ رہائش، اور محض سابقہ نکاح کی بنا پر اسے جائیداد میں حصہ بھی نہیں ملتا۔ اس کا گھر میں ٹھہرنے پر اصرار اور جائیداد کا دعویٰ جائز نہیں، اسے چاہیے کہ باز آ جائے۔ جواب فتاویٰ ہندیہ اور بدائع الصنائع جیسی فقہی کتابوں پر مبنی ہے، اور اس میں بیٹوں کے معاملے یا عدالتی کارروائی پر بات نہیں کی گئی۔
مکمل فتویٰ OnlineFatawa.com پر پڑھیںیہ سوال الگ صفحے پر دیکھیں