والدین ایک اچھے رشتے کو اس کے ماضی کی وجہ سے ٹھکرا دیں تو بیٹی کیا کرے؟
ایک خاتون نے پوچھا کہ اگر والدین ایک دیندار شخص کا رشتہ اس لیے رد کر دیں کہ وہ طلاق یافتہ ہے اور اس کے والدین میں بھی علیحدگی ہو چکی ہے، جبکہ وہ اس کی دینداری اور اخلاق کی وجہ سے اسے پسند کرتی ہے، تو وہ کیا کرے۔ دارالافتاء کے جواب میں، جس کی تصدیق مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب نے کی، کہا گیا کہ ابھی اس کا فیصلہ مضبوط بنیاد پر نہیں، کیونکہ کسی کی اصل حقیقت اکثر نکاح کے بعد سامنے آتی ہے۔ والدین کے تحفظات معقول ہیں کیونکہ اس شخص کا ماضی معلوم ہے، اور ان کا مشورہ بیٹی سے محبت و فکر پر مبنی ہے، رشتے کو مشکل بنانے پر نہیں۔ اسے والدین کی بات پر غور کرنے، استخارہ کرنے، اور صلوٰۃ الحاجت، دعا اور ذکر کے ذریعے اللہ کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا کہ جذبات عقل پر غالب نہ آئیں۔ جواب میں اس پر بات نہیں کی گئی کہ والدین کی رضامندی شرعاً لازم ہے یا نہیں۔