کیا ولی کی رضامندی کے بغیر، یا گواہوں کے بغیر نکاح ہو سکتا ہے؟
خلاصہ
سائل نے پوچھا کہ کن حالات میں دلہن کے ولی کی رضامندی کے بغیر، یا گواہوں کے بغیر نکاح کیا جا سکتا ہے۔ شیخ یوسف ویلچ صاحب نے جواب دیا کہ ولی کی رضامندی کے بغیر کیا گیا نکاح درست ہو جاتا ہے، لیکن کسی حقیقی اور شرعاً معتبر ضرورت کے سوا ایسا کرنا جائز نہیں۔ اگر ولی بلا وجہ انکار کرے اور اس سے خاتون کو واقعی نقصان پہنچے، یا اس کے تمام اولیا غیر مسلم ہوں، تو مفتی اس کی طرف سے کسی وکیل کو مقرر کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگر وہ ولی کی رضامندی کے بغیر کسی ایسے شخص سے نکاح کرے جو شرعاً اس کا ہم پلہ نہ ہو تو ولی نکاح فسخ کرانے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ البتہ گواہوں کی شرط ساقط نہیں ہوتی: کم از کم دو بالغ مسلمان گواہوں کے بغیر، یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں، نکاح درست نہیں ہوتا۔
شادی سے متعلق مزید سوالات
والدین ایک اچھے رشتے کو اس کے ماضی کی وجہ سے ٹھکرا دیں تو بیٹی کیا کرے؟
ایک خاتون نے پوچھا کہ اگر والدین ایک دیندار شخص کا رشتہ اس لیے رد کر دیں کہ وہ طلاق یافتہ ہے اور اس کے والدین میں بھی علیحدگی ہو چکی ہے، جبکہ وہ اس کی دینداری اور اخلاق کی وجہ سے اسے پسند کرتی ہے، تو وہ کیا کرے۔ دارالافتاء کے جواب میں، جس کی تصدیق مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب نے کی، کہا گیا کہ ابھی اس کا فیصلہ مضبوط بنیاد پر نہیں، کیونکہ کسی کی اصل حقیقت اکثر نکاح کے بعد سامنے آتی ہے۔ والدین کے تحفظات معقول ہیں کیونکہ اس شخص کا ماضی معلوم ہے، اور ان کا مشورہ بیٹی سے محبت و فکر پر مبنی ہے، رشتے کو مشکل بنانے پر نہیں۔ اسے والدین کی بات پر غور کرنے، استخارہ کرنے، اور صلوٰۃ الحاجت، دعا اور ذکر کے ذریعے اللہ کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا کہ جذبات عقل پر غالب نہ آئیں۔ جواب میں اس پر بات نہیں کی گئی کہ والدین کی رضامندی شرعاً لازم ہے یا نہیں۔
مکمل فتویٰ askimam.org پر پڑھیںیہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔
کیا دلہن کا ولی اس کے نکاح میں گواہ بھی بن سکتا ہے؟
سائل نے پوچھا کہ کیا دلہن کا ولی اس کی طرف سے وکیل مقرر کرنے (وکالت) اور خود نکاح کا گواہ بن سکتا ہے، اور کیا وکیل بھی گواہوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ شیخ یوسف بادات صاحب نے جواب دیا کہ ولی وکالت اور نکاح دونوں کا گواہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ وہ دلہن کا باپ، دادا، نانا، بیٹا یا پوتا نواسا نہ ہو۔ اسی شرط کے ساتھ وکیل بھی گواہوں میں سے ایک ہو سکتا ہے، اس لیے دونوں ذمہ داریوں کے لیے الگ الگ افراد ضروری نہیں۔ جواب کی بنیاد فتاویٰ ہندیہ ہے، جس کے مطابق والدین اور اولاد کی ایک دوسرے کے حق میں، اور میاں بیوی کی ایک دوسرے کے حق میں گواہی قبول نہیں۔ جواب میں اس پر بات نہیں کی گئی کہ نکاح کے وقت ولی کا موجود ہونا ضروری ہے یا نہیں۔
مکمل فتویٰ IslamQA.org پر پڑھیںیہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔
کیا شوہر بیوی سے پردہ، بشمول نقاب، کروا سکتا ہے؟
سائل نے پوچھا کہ کیا شوہر بیوی کو برقع اور نقاب پر مجبور کر سکتا ہے۔ مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب نے جواب دیا کہ شریعت نے شوہر کو بیوی کا نگران بنایا ہے اور نگران پر لازم ہے کہ اپنے ماتحتوں کو شرعی احکام کی خلاف ورزی سے روکے، اس لیے شوہر کو دیکھنا ہوگا کہ اس کی بیوی غیر محرم مردوں کے سامنے پردے کے احکام کی پابندی کرے۔ انہوں نے مومن عورتوں کے چادریں لٹکانے والی آیت اور خود کو اور گھر والوں کو آگ سے بچانے والی آیت سے استدلال کیا۔ مفتی صاحب نے مزید کہا کہ شوہر حکمت اور نرمی سے کام لے اور مؤثر طریقوں سے بیوی کو سمجھائے، اور شرعی نصیحت کو جذبات سے الگ ہو کر قبول کیا جائے۔ جواب صرف شوہر کی ذمہ داری کے بارے میں ہے، چہرے کے پردے کی تفصیلات اس میں بیان نہیں ہوئیں۔
مکمل فتویٰ askimam.org پر پڑھیںیہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔