کیا ایسی عیسائی عورت سے نکاح درست ہوگا جو شوہر کی شرائط مان لے، اور کیا یہ مناسب ہے؟
ایک شخص نے پوچھا کہ دفتر کی ایک خاتون سے اس کا نکاح درست ہوگا یا نہیں، جو بدھ مت میں پلی بڑھی، پانچ سال پہلے عیسائی ہوئی، اور گھر میں شراب و سور کے بغیر، صرف حلال کھانے اور بچوں کی مسلمان پرورش کی شرائط مان گئی ہے۔ محترم افتاء ریسرچ فیلو نے، جن کے جواب کی تصدیق مفتی عبدالرحمن منگیرا اور مفتی زبیر پٹیل نے کی، جواب دیا کہ اگر وہ خود اپنے عقیدے میں عیسائی ہو، محض والدین کی وجہ سے نہیں، تو نکاح درست ہوگا اور اس کا سابقہ بدھ مت اس میں رکاوٹ نہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ غیر مسلم ملک میں رہتے ہوئے کتابیہ سے نکاح مکروہ تحریمی ہے، جسے حرام کے قریب کہا گیا۔ نکاح سے پہلے کیے گئے وعدے بعد میں نبھانا مشکل ہو سکتا ہے، مثلاً گھر میں شراب کے معاملے میں نرمی آ سکتی ہے، اور بچوں کی پرورش پر اکثر اختلاف ہو جاتا ہے۔ علیحدگی کی صورت میں بچے اسلام سے ہٹ کر پلنے کا اندیشہ بتایا گیا، اس لیے جواب میں اس نکاح کی سفارش نہیں کی گئی۔