کیا ایسی عیسائی عورت سے نکاح درست ہوگا جو شوہر کی شرائط مان لے، اور کیا یہ مناسب ہے؟
خلاصہ
ایک شخص نے پوچھا کہ دفتر کی ایک خاتون سے اس کا نکاح درست ہوگا یا نہیں، جو بدھ مت میں پلی بڑھی، پانچ سال پہلے عیسائی ہوئی، اور گھر میں شراب و سور کے بغیر، صرف حلال کھانے اور بچوں کی مسلمان پرورش کی شرائط مان گئی ہے۔ محترم افتاء ریسرچ فیلو نے، جن کے جواب کی تصدیق مفتی عبدالرحمن منگیرا اور مفتی زبیر پٹیل نے کی، جواب دیا کہ اگر وہ خود اپنے عقیدے میں عیسائی ہو، محض والدین کی وجہ سے نہیں، تو نکاح درست ہوگا اور اس کا سابقہ بدھ مت اس میں رکاوٹ نہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ غیر مسلم ملک میں رہتے ہوئے کتابیہ سے نکاح مکروہ تحریمی ہے، جسے حرام کے قریب کہا گیا۔ نکاح سے پہلے کیے گئے وعدے بعد میں نبھانا مشکل ہو سکتا ہے، مثلاً گھر میں شراب کے معاملے میں نرمی آ سکتی ہے، اور بچوں کی پرورش پر اکثر اختلاف ہو جاتا ہے۔ علیحدگی کی صورت میں بچے اسلام سے ہٹ کر پلنے کا اندیشہ بتایا گیا، اس لیے جواب میں اس نکاح کی سفارش نہیں کی گئی۔
شادی سے متعلق مزید سوالات
نکاح میں چھوہارے لٹانا کیسا ہے؟
سائل نے پوچھا کہ نکاح کے موقع پر لوگوں پر چھوہارے لٹانا کیسا ہے۔ مولانا عابد عطاری مدنی صاحب نے جواب دیا کہ یہ جائز ہے، اور اس کی دلیل میں روایت پیش کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض نکاحوں میں چھوہارے لٹائے گئے، نیز امام ابوحنیفہ نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ میزبان کی اجازت ہو تو لٹائی ہوئی چیزیں اٹھانا درست ہے، اور ابن ابی لیلیٰ کی قیاس پر مبنی ناپسندیدگی کو روایات اور عام رواج کی بنا پر چھوڑ دیا گیا۔ ساتھ دو احتیاطیں بھی بتائیں: نکاح اکثر مسجد میں ہوتے ہیں اور وہاں ایسا کرنے سے مسجد کے آداب متاثر ہوتے ہیں، اور چھوہارے ایسی جگہ نہ پھینکے جائیں جہاں پاؤں تلے آئیں یا نالی اور کیچڑ میں ضائع ہوں۔
مکمل فتویٰ FatwaQA.com پر پڑھیںیہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔
کیا مسلمان عورت کے لیے ایسے مرد سے نکاح جائز ہے جو مسلمان گھرانے میں پلا بڑھا مگر نماز نہیں پڑھتا؟
ایک خاتون نے پوچھا کہ کیا وہ ایسے مرد سے نکاح کر سکتی ہیں جو مسلمان گھرانے میں پلا بڑھا ہے مگر نماز نہیں پڑھتا۔ مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب نے جواب دیا کہ رشتہ چنتے وقت سب سے اہم چیز دینداری اور نیک کردار ہے، باقی باتیں اس کے بعد آتی ہیں۔ جواب میں دلیل دی گئی کہ جو شخص اپنے رب کے حقوق ادا نہیں کرتا، اس سے یہ امید کم ہے کہ وہ بیوی کے حقوق ادا کرے گا۔ انہوں نے وہ حدیث بھی نقل کی کہ عورت سے دین، مال اور حسن کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، اس لیے دیندار کو ترجیح دو، اور بےنمازی سے نکاح نہ کرنے کا مشورہ دیا، کیونکہ میاں بیوی کو دین پر عمل میں ایک دوسرے کا معاون ہونا چاہیے اور بیوی کے بھی سست پڑ جانے کا خدشہ ہے۔ جواب نصیحت کے انداز میں ہے اور ایسے نکاح کے درست ہونے یا نہ ہونے پر بات نہیں کرتا۔
مکمل فتویٰ askimam.org پر پڑھیںیہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔
کیا نکاح درست ہے جب نکاح خواں نے 'میں نے اسے تمہیں دیا' نہیں کہا مگر دولہا سے قبولیت پوچھی؟
ایک خاتون نے پوچھا کہ کیا ان کا نکاح درست ہے، کیونکہ نکاح خواں نے دولہا سے کہا کہ اس نے دلہن کا نام والد کی اجازت اور طے شدہ مہر کے ساتھ نکاح میں دیا ہے اور پھر قبول کرنے کا پوچھا، مگر ان الفاظ میں "تمہیں" نہیں کہا۔ فتویٰ سینٹر ڈاٹ آرگ کے افتا ریسرچ فیلو صاحب نے جواب دیا کہ نکاح درست ہے۔ ایجاب دولہا ہی سے مخاطب تھا اور حاضرین نے اس کے جواب کو قبولیت ہی سمجھا۔ جواب میں ابن عابدین کے حوالے سے یہ اصول بتایا گیا کہ جب شخص سامنے موجود ہو اور اس کی طرف اشارہ ہو تو نام میں غلطی نقصان دہ نہیں، کیونکہ اشارہ نام سے زیادہ پہچان کراتا ہے۔ جواب میں دوسرے الفاظ کی صورتوں پر بات نہیں کی گئی۔
مکمل فتویٰ IslamQA.org پر پڑھیںیہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔