میاں بیوی کے حقوق

کیا شوہر اپنی بیوی کی کمائی استعمال کر سکتا ہے؟

جواب: مفتی فضیل رضا عطاری، دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)نکاپ پر خلاصہ

خلاصہ

سائل نے پوچھا کہ کیا شوہر اپنی بیوی کی کمائی استعمال کر سکتا ہے۔ مفتی فضیل رضا عطاری صاحب نے جواب دیا کہ عورت جس مال کی مالک ہو، چاہے وہ وراثت، مہر یا تحفے میں ملا ہو یا اس نے خود کمایا ہو، وہ اسی کا ہے، اور شوہر اس کی اجازت کے بغیر اسے استعمال نہیں کر سکتا؛ یہ اجازت صاف الفاظ میں بھی ہو سکتی ہے اور میاں بیوی کے معمول سے بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ بیوی کی رضا سے اس کی کمائی گھر کی چیزوں پر خرچ ہو سکتی ہے اور شوہر ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ مفتی صاحب نے عورت کی ملازمت کے لیے پانچ شرطیں بھی گنوائیں، جن میں جسم کا ضروری پردہ، لباس کا ساتر ہونا، غیر محرم کے ساتھ تنہائی نہ ہونا اور کام کی جگہ اور آنے جانے میں کسی خطرے کا نہ ہونا شامل ہیں، اور بتایا کہ ان میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو ملازمت ناجائز ہے۔

شادی سے متعلق مزید سوالات

  • طلاق

    کئی سال پہلے تین طلاقوں کے بعد کیا سابقہ بیوی اس کے گھر میں رہ سکتی ہے، اور کیا اسے نفقہ یا جائیداد میں حق ملتا ہے؟

    ایک شخص نے بتایا کہ اس نے تقریباً انیس سال پہلے بیوی کو تحریری طور پر تین طلاقیں دیں، مگر وہ اب بھی اس کے ذاتی گھر میں رہ رہی ہے اور نکلنے سے انکاری ہے، اور پوچھا کہ یہ جائز ہے یا نہیں، کیا اسے رہائش اور خرچ دینا لازم ہے، اور کیا اس کا جائیداد میں کوئی حق ہے۔ محمد یعقوب علی صاحب نے جواب دیا کہ تین طلاقوں سے نکاح مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جاتی ہے، اس لیے تحریری طلاقیں اسی وقت واقع ہو گئیں۔ عدت پوری ہونے کے بعد وہ شرعاً اس کے لیے اجنبی ہے، لہٰذا شوہر پر نہ نفقہ لازم ہے اور نہ رہائش، اور محض سابقہ نکاح کی بنا پر اسے جائیداد میں حصہ بھی نہیں ملتا۔ اس کا گھر میں ٹھہرنے پر اصرار اور جائیداد کا دعویٰ جائز نہیں، اسے چاہیے کہ باز آ جائے۔ جواب فتاویٰ ہندیہ اور بدائع الصنائع جیسی فقہی کتابوں پر مبنی ہے، اور اس میں بیٹوں کے معاملے یا عدالتی کارروائی پر بات نہیں کی گئی۔

    جواب: محمد یعقوب علی، دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہفتویٰ نمبر 100332نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ OnlineFatawa.com پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • نکاح

    کیا ایسی عیسائی عورت سے نکاح درست ہوگا جو شوہر کی شرائط مان لے، اور کیا یہ مناسب ہے؟

    ایک شخص نے پوچھا کہ دفتر کی ایک خاتون سے اس کا نکاح درست ہوگا یا نہیں، جو بدھ مت میں پلی بڑھی، پانچ سال پہلے عیسائی ہوئی، اور گھر میں شراب و سور کے بغیر، صرف حلال کھانے اور بچوں کی مسلمان پرورش کی شرائط مان گئی ہے۔ محترم افتاء ریسرچ فیلو نے، جن کے جواب کی تصدیق مفتی عبدالرحمن منگیرا اور مفتی زبیر پٹیل نے کی، جواب دیا کہ اگر وہ خود اپنے عقیدے میں عیسائی ہو، محض والدین کی وجہ سے نہیں، تو نکاح درست ہوگا اور اس کا سابقہ بدھ مت اس میں رکاوٹ نہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ غیر مسلم ملک میں رہتے ہوئے کتابیہ سے نکاح مکروہ تحریمی ہے، جسے حرام کے قریب کہا گیا۔ نکاح سے پہلے کیے گئے وعدے بعد میں نبھانا مشکل ہو سکتا ہے، مثلاً گھر میں شراب کے معاملے میں نرمی آ سکتی ہے، اور بچوں کی پرورش پر اکثر اختلاف ہو جاتا ہے۔ علیحدگی کی صورت میں بچے اسلام سے ہٹ کر پلنے کا اندیشہ بتایا گیا، اس لیے جواب میں اس نکاح کی سفارش نہیں کی گئی۔

    جواب: افتاء ریسرچ فیلو، FatwaCentre.org (بذریعہ IslamQA.org)نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ IslamQA.org پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

  • نکاح

    نکاح میں چھوہارے لٹانا کیسا ہے؟

    سائل نے پوچھا کہ نکاح کے موقع پر لوگوں پر چھوہارے لٹانا کیسا ہے۔ مولانا عابد عطاری مدنی صاحب نے جواب دیا کہ یہ جائز ہے، اور اس کی دلیل میں روایت پیش کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض نکاحوں میں چھوہارے لٹائے گئے، نیز امام ابوحنیفہ نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ میزبان کی اجازت ہو تو لٹائی ہوئی چیزیں اٹھانا درست ہے، اور ابن ابی لیلیٰ کی قیاس پر مبنی ناپسندیدگی کو روایات اور عام رواج کی بنا پر چھوڑ دیا گیا۔ ساتھ دو احتیاطیں بھی بتائیں: نکاح اکثر مسجد میں ہوتے ہیں اور وہاں ایسا کرنے سے مسجد کے آداب متاثر ہوتے ہیں، اور چھوہارے ایسی جگہ نہ پھینکے جائیں جہاں پاؤں تلے آئیں یا نالی اور کیچڑ میں ضائع ہوں۔

    جواب: مولانا عابد عطاری مدنی، دارالافتاء اہلسنت (دعوتِ اسلامی)فتویٰ نمبر FatwaQA-035نکاپ پر خلاصہ

    مکمل فتویٰ FatwaQA.com پر پڑھیں

    یہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔

شادی کے تمام سوالات

شادی کے بارے میں سنجیدہ ہیں؟ یہاں سب ہی ہیں۔

نکاپ ڈاؤن لوڈ کریں اور نکاح کی جانب پہلا قدم اٹھائیں۔

QR code: ایپ حاصل کرنے کے لیے فون کے کیمرے سے اسکین کریں
ایپ حاصل کرنے کے لیے فون کے کیمرے سے اسکین کریں