کیا شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کو وہی کھانا، پینا اور لباس دے جو وہ خود استعمال کرتا ہے؟
خلاصہ
سائل نے پوچھا کہ کیا شریعت میں شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کو وہی کھانا، پینا اور لباس دے جو وہ خود استعمال کرتا ہے۔ مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی صاحب نے جواب دیا کہ شوہر پر بیوی کے لیے کھانا، لباس اور رہائش لازم ہے، مگر جو کچھ وہ خود استعمال کرے وہ سب دینا لازم نہیں۔ معیار دونوں کی حالت کے مطابق ہے: دونوں مالدار ہوں تو ان کی مالداری کے مطابق، دونوں غریب ہوں تو غریبوں کے عام معیار کے مطابق، اور ایک مالدار دوسرا غریب ہو تو درمیانے درجے کا۔ مفتی صاحب نے مزید بتایا کہ شوہر کا اپنا کھانا بیوی کے ساتھ کھانا مستحب ہے، خاص طور پر جب شوہر مالدار اور بیوی غریب ہو، مگر یہ واجب نہیں؛ اس کی بنیاد احادیث اور فقہِ حنفی کی کتابیں ہیں۔
میاں بیوی کے حقوق پر مزید سوالات
شادی سے متعلق مزید سوالات
کیا شوہر بیوی سے پردہ، بشمول نقاب، کروا سکتا ہے؟
سائل نے پوچھا کہ کیا شوہر بیوی کو برقع اور نقاب پر مجبور کر سکتا ہے۔ مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب نے جواب دیا کہ شریعت نے شوہر کو بیوی کا نگران بنایا ہے اور نگران پر لازم ہے کہ اپنے ماتحتوں کو شرعی احکام کی خلاف ورزی سے روکے، اس لیے شوہر کو دیکھنا ہوگا کہ اس کی بیوی غیر محرم مردوں کے سامنے پردے کے احکام کی پابندی کرے۔ انہوں نے مومن عورتوں کے چادریں لٹکانے والی آیت اور خود کو اور گھر والوں کو آگ سے بچانے والی آیت سے استدلال کیا۔ مفتی صاحب نے مزید کہا کہ شوہر حکمت اور نرمی سے کام لے اور مؤثر طریقوں سے بیوی کو سمجھائے، اور شرعی نصیحت کو جذبات سے الگ ہو کر قبول کیا جائے۔ جواب صرف شوہر کی ذمہ داری کے بارے میں ہے، چہرے کے پردے کی تفصیلات اس میں بیان نہیں ہوئیں۔
مکمل فتویٰ askimam.org پر پڑھیںیہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔
کیا دوسری شادی کے لیے آدمی پر پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے؟
سائل نے پوچھا کہ کیا شریعت میں دوسری شادی سے پہلے پہلی بیوی کی اجازت لینا لازم ہے۔ مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی صاحب نے جواب دیا کہ شرعی طور پر اس کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں۔ ساتھ ہی بتایا کہ قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے اجازت لے لینا بہتر ہے، اور اجازت کے بغیر ہونے والا دوسرا نکاح بھی درست ہے۔ جواب کی بنیاد وہ آیتِ قرآنی ہے جس میں عدل کی شرط کے ساتھ ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت ہے، ایک ایسی حدیث جو ایک بیوی کی طرف جھک جانے سے خبردار کرتی ہے، اور اعلیٰ حضرت کا یہ قول کہ اجازت ضروری نہیں۔ جواب میں کسی خاص ملک کی قانونی شرائط پر بات نہیں کی گئی۔
مکمل فتویٰ FatwaQA.com پر پڑھیںیہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔
کیا شوہر اپنی بیوی کی کمائی استعمال کر سکتا ہے؟
سائل نے پوچھا کہ کیا شوہر اپنی بیوی کی کمائی استعمال کر سکتا ہے۔ مفتی فضیل رضا عطاری صاحب نے جواب دیا کہ عورت جس مال کی مالک ہو، چاہے وہ وراثت، مہر یا تحفے میں ملا ہو یا اس نے خود کمایا ہو، وہ اسی کا ہے، اور شوہر اس کی اجازت کے بغیر اسے استعمال نہیں کر سکتا؛ یہ اجازت صاف الفاظ میں بھی ہو سکتی ہے اور میاں بیوی کے معمول سے بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ بیوی کی رضا سے اس کی کمائی گھر کی چیزوں پر خرچ ہو سکتی ہے اور شوہر ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ مفتی صاحب نے عورت کی ملازمت کے لیے پانچ شرطیں بھی گنوائیں، جن میں جسم کا ضروری پردہ، لباس کا ساتر ہونا، غیر محرم کے ساتھ تنہائی نہ ہونا اور کام کی جگہ اور آنے جانے میں کسی خطرے کا نہ ہونا شامل ہیں، اور بتایا کہ ان میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو ملازمت ناجائز ہے۔
مکمل فتویٰ FatwaQA.com پر پڑھیںیہ صرف حوالے کے لیے ایک مختصر خلاصہ ہے۔ مکمل جواب اصل ماخذ پر پڑھیں، اور اپنی صورتِ حال کے بارے میں کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔ بعض مسائل میں علما اور مکاتبِ فکر کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ نکاپ فتویٰ جاری نہیں کرتا۔