بے نکاح رہنے کے نقصانات: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں
اہم نکات
- کتاب بے نکاح رہنے کو نقصان کیوں کہتی ہے؟ صفحہ ۶۱ پر ’’بے نکاح رہنے کے نقصانات‘‘ کے تحت مولانا تھانویؒ ایک تشبیہ سے بات شروع کرتے ہیں۔
- استطاعت کے باوجود نکاح میں تاخیر کرنا کیسا ہے؟ صفحہ ۶۲ پر دو عادتوں پر گرفت ہے۔
- کیا نکاح چھوڑ دینا عبادت ہے؟ صفحہ ۶۴ پر ’’نکاح نہ کرنے پر وعید‘‘ کے تحت کتاب ایک حدیث کا مفہوم لاتی ہے کہ جو شخص خواہش کے باوجود نکاح چھوڑ دے وہ ہمارے طریقے پر نہیں۔
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات: کیا مولانا تھانویؒ کہتے ہیں کہ ہر شخص پر نکاح لازم ہے؟
اس رہنما میں
بہت سے گھرانے کہتے ہیں کہ شادی بعد میں دیکھیں گے: پہلے تعلیم مکمل ہو جائے، پھر گھر بن جائے، پھر بہن کی شادی ہو۔ کبھی یہ انتظار دانش مندی ہوتا ہے اور کبھی چپکے سے عادت بن جاتا ہے۔ بے نکاح رہنے کے نقصانات پر حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے اسلامی شادی میں سنجیدگی سے لکھا ہے۔ یہ ان کی تعلیمات کا مجموعہ ہے جسے محمد زید مظاہری ندوی نے مرتب کیا۔ یہ تحریر ’’بے نکاح رہنے کے نقصانات‘‘ کے عنوان اور اس کے بعد آنے والے صفحات (باب ۱، صفحات ۶۱ تا ۶۴) کا خلاصہ ہے۔
یہ ہمارا خلاصہ ہے، فتویٰ نہیں اور نہ لفظ بہ لفظ ترجمہ۔ بعض مثالیں مصنف کے زمانے اور ماحول کی ہیں۔ اپنے مخصوص معاملے میں کسی معتبر عالم سے رجوع کیجیے۔
کتاب بے نکاح رہنے کو نقصان کیوں کہتی ہے؟
صفحہ ۶۱ پر ’’بے نکاح رہنے کے نقصانات‘‘ کے تحت مولانا تھانویؒ ایک تشبیہ سے بات شروع کرتے ہیں۔ نکاح لباس کی طرح ہے، اس لیے اس کے بغیر رہنا ایک طرح کی برہنگی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو مرد نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اس کے لیے بے نکاح رہنا عیب کی بات ہے، فخر کی نہیں۔
کتاب اس شخص کی بات کر رہی ہے جس کو ضرورت بھی ہو اور استطاعت بھی۔ جہاں یہ نہ ہوں وہاں صورت مختلف ہے، اور اسی حصے میں یہ بھی آتا ہے کہ نکاح کب واجب ہو جاتا ہے۔ اس بارے میں کیا نکاح فرض ہے یا سنت بھی دیکھیں۔
جسے نکاح کی ضرورت ہو وہ اس سے بچے تو کیا بگڑتا ہے؟
صفحہ ۶۱ کے مطابق جہاں ضرورت حقیقی ہو وہاں نکاح چھوڑنا بہت سے فتنوں کا سبب بن جاتا ہے۔ دل میں وسوسے اور اندیشے بھر جاتے ہیں جو عبادت اور اطمینان کی کیفیت پر چھا جاتے ہیں۔ مصنف لکھتے ہیں کہ کچھ لوگ دباؤ کے آگے ہار جاتے ہیں، اور کچھ لوگ ظاہری وقار بچانے کے لیے لوگوں سے دور رہتے ہیں مگر چھپے طریقوں سے پھسل جاتے ہیں، کیونکہ آدمی کی بدنامی ہو تو اس کی عزت جاتی رہتی ہے۔
وہ ایسے لوگوں کا بھی ذکر کرتے ہیں جو اصل فعل سے تو بچتے ہیں مگر اس کے مقدمات میں پڑ جاتے ہیں، اور اسے الگ فتنہ بتاتے ہیں۔ ہم اس کا عملی مفہوم یہ سمجھتے ہیں کہ دبی ہوئی ضرورت ختم نہیں ہوتی، راستہ ڈھونڈتی ہے، اس لیے سب سے محفوظ راستہ جائز راستہ ہے۔
استطاعت کے باوجود نکاح میں تاخیر کرنا کیسا ہے؟
صفحہ ۶۲ پر دو عادتوں پر گرفت ہے۔ کچھ لوگ ضرورت اور وسعت دونوں ہونے کے باوجود شروع ہی سے نکاح نہیں کرتے۔ کچھ لوگ ایک بار نکاح کرنے کے بعد بیوی کے انتقال یا طلاق کے بعد دوبارہ نہیں کرتے۔ کتاب کا حکم سادہ ہے: جب ضرورت اور وسعت دونوں ہوں تو نکاح واجب بلکہ فرض ہو جاتا ہے۔
اس کا تعلق طلاق یا بیوگی کے بعد دوبارہ نکاح سے بھی ہے۔ دونوں جگہ ایک ہی بات ہے کہ جائز اور پرسکون گھر کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔
بڑھاپے کے نکاح کے واقعات کیا سکھاتے ہیں؟
صفحات ۶۲ تا ۶۴ پر مولانا تھانویؒ چند واقعات اس عام اعتراض کے جواب میں لاتے ہیں کہ بڑی عمر میں نکاح کا کیا فائدہ؟
- شاہجہاں پور کے نوّے سالہ بزرگ (صفحات ۶۲ تا ۶۳)۔ ان کے بڑے بچوں نے اعتراض کیا کہ ہم خدمت کے لیے موجود ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ تم میری مصلحت نہیں سمجھتے۔ بعد میں وہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوئے کہ کوئی پاس آنا پسند نہ کرتا، بچے اور بہوئیں دور ہو گئے، مگر نئی بیوی نے بغیر کسی گھن کے ان کی خدمت کی اور بار بار صفائی کی۔ انھوں نے بچوں سے کہا کہ میں نے اسی دن کے لیے نکاح کیا تھا۔
- ایک مال دار شخص جن کو جلدی بیماری تھی (صفحہ ۶۳)۔ سب ان سے دور رہے سوائے بیوی کے جو خوشی خوشی خدمت کرتی رہی۔ مصنف کہتے ہیں کہ ایسی خدمت کسی اور تعلق میں نہیں ملتی، کیونکہ بیوی شوہر کی خدمت جس طرح کرتی ہے دوسرا قریب سے قریب رشتہ بھی نہیں کر سکتا۔
- مولانا شاہ فضل الرحمٰن رحمہ اللہ (صفحات ۶۳ تا ۶۴)۔ کتاب کے مطابق انھوں نے پہلی بیوی کے انتقال کے بعد سو برس کی عمر میں نکاح کیا، کیونکہ انھیں ایسی بیماری تھی جس میں صرف بیوی ہی مدد کر سکتی تھی۔ وہ دن میں کئی بار خوشی سے ان کی صفائی کرتی تھیں۔
- حاجی صاحب رحمہ اللہ (صفحہ ۶۴)۔ انھوں نے بڑھاپے میں اس لیے نکاح کیا کہ ان کی بیوی نابینا ہو گئی تھیں۔ نئی بیوی نے دونوں کی خدمت کی۔ مصنف ان واقعات سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عورت صرف شہوت کے لیے نہیں ہوتی اور نکاح میں اور بھی بہت سی حکمتیں اور فائدے ہیں۔
ہم ان واقعات کو رفاقت اور خدمت کے سبق کے طور پر پڑھتے ہیں، کسی عمر کے بارے میں حکم کے طور پر نہیں۔ یہ یاد دلاتے ہیں کہ بیوی دوست اور مددگار بھی ہے، جس کا ذکر بیوی کی قدر و اہمیت میں بھی آیا ہے۔
کیا نکاح چھوڑ دینا عبادت ہے؟
صفحہ ۶۴ پر ’’نکاح نہ کرنے پر وعید‘‘ کے تحت کتاب ایک حدیث کا مفہوم لاتی ہے کہ جو شخص خواہش کے باوجود نکاح چھوڑ دے وہ ہمارے طریقے پر نہیں۔ مصنف وضاحت کرتے ہیں کہ یہ سوچ دوسرے مذاہب کے راہبوں کی ہے جو ترک نکاح کو اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ بعض لوگ بے نکاح رہنے کو عبادت اور قرب سمجھتے ہیں، اور اس عقیدے کو رہبانیت اور دین میں بدعت کہتے ہیں۔ ان کی دلیل سادہ ہے: شریعت نے جس عمل کا حکم دیا ہے وہ نکاح ہی ہے، تو اس کو چھوڑنا عبادت نہیں بن سکتا۔
آج گھرانہ اس نصیحت پر کیسے عمل کرے؟
- دیانت داری سے پوچھیں کہ نکاح میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ تعلیم، بچت اور بہن کی شادی ایک مدت کے لیے جائز وجوہات ہیں۔ خوف، غرور یا عادت نہیں۔
- شرائط کی فہرست اتنی لمبی نہ کریں کہ ختم ہی نہ ہو۔ ایک مخلص اور معقول رشتہ خیالی کامل رشتے سے بہتر ہے۔
- بیوگی یا طلاق کے بعد دروازہ کھلا رکھیں۔ دوبارہ نکاح اسلام میں معمول کی اور قابل قدر راہ ہے۔
- ساتھی کو رفاقت سے پرکھیں، نمود سے نہیں۔ اوپر کے واقعات مشکل ترین وقت میں خدمت کے ہیں۔
- ولی اور معتبر بزرگوں کو شروع میں شامل کریں تاکہ فیصلے کا بوجھ کوئی اکیلا نہ اٹھائے۔
اگر آپ کا گھرانہ تیار ہے تو نکاپ پر ولی کے ساتھ رشتہ تلاش کرنے کی سہولت والدین اور سرپرستوں کو شروع سے شامل رکھتی ہے۔ خواتین کے لیے یہ ہمیشہ مفت ہے۔ آپ اینڈرائیڈ ایپ حاصل کر سکتے ہیں، قیمتوں کا صفحہ دیکھ سکتے ہیں یا پاکستان میں حلال رشتہ ایپ کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں۔
اسی کتاب کی مزید تعلیمات کے لیے نکاح کا مقصد اور نیت بھی دیکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا مولانا تھانویؒ کہتے ہیں کہ ہر شخص پر نکاح لازم ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ جب ضرورت اور وسعت دونوں ہوں تو نکاح واجب بلکہ فرض ہو جاتا ہے (صفحہ ۶۲)۔ جہاں یہ نہ ہوں وہاں صورت مختلف ہے، اس لیے اپنے معاملے میں عالم سے پوچھیں۔
بڑھاپے کے نکاح کے واقعات کیوں بیان کیے گئے ہیں؟ یہ دکھانے کے لیے کہ بیوی سکون کے ساتھ ساتھ رفیق اور تیماردار بھی ہے، اور ان لوگوں کا جواب دینے کے لیے جو بڑی عمر میں نکاح کو بے فائدہ کہتے ہیں (صفحات ۶۲ تا ۶۴)۔
یہ تعلیم کہاں پڑھی جا سکتی ہے؟ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی اسلامی شادی (مرتبہ محمد زید مظاہری ندوی)، باب ۱، صفحات ۶۱ تا ۶۴ میں۔ یہ خلاصہ ہے، فتویٰ نہیں؛ کسی معتبر عالم سے پوچھ لیجیے۔