بیوہ کا نکاح: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی تعلیمات
اہم نکات
- کیا بیوہ کا نکاح نہ کرنا معمولی رسم ہے؟ حضرت تھانوی رحمہ اللہ بیوہ کا نکاح نہ کرنے کو جاہلیت کی رسم قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ خدا کے لیے اپنی حالت پر توجہ کرو اور اس رسم کو مٹانے کی…
- بیوہ کا نکاح بعض اوقات کنواری سے زیادہ ضروری کیوں؟ حضرت کی دلیل یہ ہے کہ بیوہ ازدواجی زندگی دیکھ چکی ہوتی ہے، اس لیے تنہائی اور حسرتوں کا ہجوم زیادہ ہوتا ہے، جس سے کبھی آبرو اور کبھی دین بھی خطرے میں…
- خاندان کن باتوں سے بچیں؟ حضرت کئی زیادتیاں گنواتے ہیں: بیوہ کو اپنی ملکیت سمجھنا، اس کی طرف سے خود فیصلہ کر لینا، ناپسندیدہ جگہ زبردستی نکاح کر دینا، یا دوسری جگہ نکاح سے روک…
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات: کیا بیوہ پر دوبارہ نکاح لازم ہے؟
اس رہنما میں
بہت سے گھرانوں میں بیوہ سے خاموشی سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ دوبارہ شادی نہ کرے۔ مگر بیوہ کا نکاح عار نہیں، رحمت ہے اور بعض حالات میں فرض بھی۔ اس تحریر میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی کتاب اسلامی شادی (صفحہ ۸۸ تا ۹۱) کی تعلیمات کا خلاصہ ہے، جہاں آپ اپنی تصانیف عضل الجاہلیہ، اصلاح الانقلاب اور اصلاح الرسوم کا حوالہ دیتے ہیں۔
یہ ہمارا خلاصہ ہے، فتویٰ نہیں اور نہ لفظ بہ لفظ ترجمہ۔ اپنے مخصوص مسئلے میں کسی معتبر عالم سے رجوع کیجیے۔
کیا بیوہ کا نکاح نہ کرنا معمولی رسم ہے؟
حضرت تھانوی رحمہ اللہ بیوہ کا نکاح نہ کرنے کو جاہلیت کی رسم قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ خدا کے لیے اپنی حالت پر توجہ کرو اور اس رسم کو مٹانے کی کوشش کرو۔
نکاحِ ثانی کب فرض ہو جاتا ہے؟
حضرت فرماتے ہیں کہ بعض صورتوں میں نکاحِ ثانی بھی نکاحِ اول کی طرح فرض ہے، مثلاً:
- عورت جوان ہو اور قرائن سے گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو
- نان و نفقہ کی حقیقی تنگی ہو
- آبرو اور دین کے ضائع ہونے کا احتمال ہو
ایسی صورت میں گھر والوں کی ذمہ داری ہے کہ اچھے رشتے میں اس کی مدد کریں، رکاوٹ نہ بنیں۔
بیوہ کا نکاح بعض اوقات کنواری سے زیادہ ضروری کیوں؟
حضرت کی دلیل یہ ہے کہ بیوہ ازدواجی زندگی دیکھ چکی ہوتی ہے، اس لیے تنہائی اور حسرتوں کا ہجوم زیادہ ہوتا ہے، جس سے کبھی آبرو اور کبھی دین بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ کنواری کو فطری شرم و حجاب بچاتا ہے، جبکہ بیاہی ہوئی میں یہ مانع نہیں رہتا؛ اس لیے اسے زیادہ نگہبانی چاہیے۔
یہ خیال کہ بیاہی عورت کو حفاظت کی کم ضرورت ہے، حضرت کے نزدیک جہالت پر مبنی ہے۔
اگر وہ انکار کر دے تو؟
بعض اوقات بیوہ بدنامی کے خوف سے ظاہراً انکار کرتی ہے کہ لوگ کہیں گے شوہر کے مرنے کا انتظار کر رہی تھی۔ حضرت شفقت اور صبر کی تلقین کرتے ہیں: نکاح کے فوائد اور تنہا رہنے کے نقصانات نرمی سے سمجھائیے اور اس کے اندیشے دور کیجیے۔
پھر بھی نہ مانے تو وہ معذور ہے۔ نیز جو بیوہ عمر رسیدہ ہو، بچے رکھتی ہو، گزر بسر کی گنجائش ہو اور خود نکاح نہ چاہتی ہو، اس پر اصرار ضروری نہیں۔
خاندان کن باتوں سے بچیں؟
حضرت کئی زیادتیاں گنواتے ہیں: بیوہ کو اپنی ملکیت سمجھنا، اس کی طرف سے خود فیصلہ کر لینا، ناپسندیدہ جگہ زبردستی نکاح کر دینا، یا دوسری جگہ نکاح سے روک دینا۔ اسے ظلم قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ عورت سسرال والوں کی مملوک نہیں ہوتی۔
خاندان کے لیے عملی قدم
اس سے تنہائی میں، نرمی سے اور بغیر جلدی کے بات کیجیے۔ اس کی خواہش پوچھیے، خدشات سنیے، اور گھر والوں میں اختلاف ہو تو کسی معزز بزرگ یا معتبر امام کو شریک کیجیے۔ جب وہ رشتے کے لیے آمادہ ہو تو ولی کے تعاون سے رشتہ تلاش کیا جا سکتا ہے اور وہ خود اینڈرائیڈ ایپ حاصل کر سکتی ہے؛ نکاپ خواتین کے لیے ہمیشہ مفت ہے۔ پاکستان کے خاندان پاکستان میں حلال رشتہ ایپ کا تعارف بھی دیکھ سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا بیوہ پر دوبارہ نکاح لازم ہے؟ ہمیشہ نہیں۔ حضرت تھانوی بعض صورتوں میں اسے فرض اور بعض میں، جیسے عمر رسیدہ بچوں والی بیوہ، اصرار غیر ضروری بتاتے ہیں۔
کیا سسرال والے اس کی جگہ فیصلہ کر سکتے ہیں؟ نہیں۔ حضرت اسے اپنی ملکیت سمجھنے کو ظلم فرماتے ہیں؛ اس کی اپنی رضامندی ضروری ہے۔
یہ باتیں کہاں پڑھی جا سکتی ہیں؟ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی اسلامی شادی، باب ۳، صفحہ ۸۸ تا ۹۱ میں۔