نکاح سے پہلے

نکاح کا مقصد اور نیت: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں

اہم نکات

  • نکاح کس نیت سے کرنا چاہیے؟ کتاب میں ’’نکاح کس نیت سے کرنا چاہیے‘‘ کے عنوان کے تحت (صفحہ ۵۷) بیان ہے کہ قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ نکاح کا بڑا مقصد عفت، پرہیزگاری اور نسل کی حفاظت…
  • کیا نکاح کا مقصد صرف کھانا پینا اور گھر کا کام ہے؟ حضرت تھانوی رحمہ اللہ اس خیال کو غلط قرار دیتے ہیں کہ نکاح کا مقصد کھانا پکوانا اور آرام پانا ہے (صفحہ ۶۰)۔
  • کیا نکاح میں تاخیر کا کوئی جائز عذر ہوتا ہے؟ جی ہاں۔
  • اکثر پوچھے جانے والے سوالات: کیا نکاح کا واحد مقصد اولاد ہے؟
اس رہنما میں

رشتے، بائیو ڈیٹا اور مہر کی باتوں سے پہلے ایک خاموش سوال ہے: آپ شادی کیوں کر رہے ہیں؟ نکاح کا مقصد ہی طے کرتا ہے کہ ہم رفیقِ حیات کا انتخاب کیسے کریں گے اور بعد میں اس کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں گے۔ اس تحریر میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی تعلیمات کا خلاصہ ہے جو اسلامی شادی (مرتبہ محمد زید مظاہری ندوی) کے باب ۱ ’’نکاح کا بیان‘‘ میں صفحہ ۵۷ تا ۶۱ اور صفحہ ۶۵ پر درج ہیں۔

یہ ہمارا خلاصہ ہے، فتویٰ نہیں اور نہ لفظ بہ لفظ ترجمہ۔ اپنے مخصوص مسئلے میں کسی معتبر عالم سے رجوع کیجیے۔

نکاح کس نیت سے کرنا چاہیے؟

کتاب میں ’’نکاح کس نیت سے کرنا چاہیے‘‘ کے عنوان کے تحت (صفحہ ۵۷) بیان ہے کہ قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ نکاح کا بڑا مقصد عفت، پرہیزگاری اور نسل کی حفاظت ہے۔ نصیحت یہ ہے کہ نکاح اس نیت سے ہو کہ تقویٰ اور پرہیزگاری کے قلعے میں آ جائیں، نہ کہ جانوروں کی طرح محض خواہش پوری کرنا مقصد ہو۔

اسی صفحے پر یہ بھی ہے کہ انسان اولاد کا قصد بھی کرے، یعنی وہ بھلائی جو اللہ نے بیوی کے ذریعے اس کے لیے لکھی ہے۔

نکاح کے حقیقی مقاصد کیا ہیں؟

صفحہ ۵۷ سے ۶۱ تک کتاب کئی مقاصد جمع کرتی ہے:

  • عفت و حیا۔ حدیث کا حوالہ ہے کہ جو استطاعت رکھے وہ نکاح کر لے، کیونکہ اس سے نگاہ نیچی رہتی ہے اور پاکدامنی محفوظ ہوتی ہے (صفحہ ۵۹)۔
  • سکون اور رحمت۔ قرآنی نشانی کا ذکر ہے کہ اللہ نے میاں بیوی میں محبت اور رحمت رکھی تاکہ ایک دوسرے سے سکون ملے (صفحہ ۵۹)۔
  • اولاد۔ اولاد کو سب سے بڑی غرض بتایا گیا ہے اور وہ حدیث یاد دلائی گئی ہے جس میں محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے نکاح کی ترغیب ہے (صفحہ ۶۰)۔
  • ذمہ داری اور نظمِ زندگی۔ شادی شدہ آدمی کمانے کی فکر اپنے ذمے لیتا ہے اور بے جا کاموں سے بچتا ہے، اور معاشرے کی بنیاد مستحکم گھر ہیں (صفحہ ۵۷)۔

کیا نکاح کا مقصد صرف کھانا پینا اور گھر کا کام ہے؟

حضرت تھانوی رحمہ اللہ اس خیال کو غلط قرار دیتے ہیں کہ نکاح کا مقصد کھانا پکوانا اور آرام پانا ہے (صفحہ ۶۰)۔ فرماتے ہیں کہ اگر یہی مقصد ہوتا تو جو شخص باورچی رکھ سکتا ہے اسے بیوی کی ضرورت نہ ہوتی، حالانکہ مال دار لوگ بھی نکاح کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح کے مصالح اور گہرے ہیں۔

خاندانوں کے لیے عملی سبق یہ ہے کہ رشتے کو صرف اس بات پر نہ جانچیں کہ بیوی گھر میں کیا کام کرے گی؛ رشتے کا اصل مقصد اس سے بڑا ہے۔

شریعت نے نکاح کیوں مقرر کیا؟

نکاح کی مصلحت کے بیان میں (صفحہ ۵۸) حضرت فرماتے ہیں کہ نفس کے فطری تقاضوں کے لیے ایک جائز ٹھکانا چاہیے۔ اگر شریعت نے ایک محدود اور جائز راستہ نہ رکھا ہوتا تو لوگ کھلے عام ان تقاضوں کو پورا کرتے اور معاشرے کا نقصان کہیں زیادہ ہوتا۔ ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ شریعت کا یہ حکم محض عقل کی تجویز سے زیادہ خیر خواہی پر مبنی ہے۔

بلا عذر نکاح سے بچنے کا انجام کیا ہے؟

صفحہ ۶۱ پر حضرت نکاح کو لباس سے تشبیہ دیتے ہیں اور بے نکاح رہنے کو ایک طرح کی برہنگی قرار دیتے ہیں۔ جب نکاح کی ضرورت واقعی ہو تو ترکِ نکاح بہت سے فتنوں کا سبب بن سکتا ہے، اور عبادات میں جو لذت اور اطمینان ہوتا ہے وہ وسوسوں اور خطرات کی نذر ہو سکتا ہے۔ بعض لوگ گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اور بعض ظاہری تقدس کی خاطر عورتوں سے بچتے ہیں مگر اس سے بھی بڑی برائی میں پڑ جاتے ہیں۔

ساتھ ہی اس طرف اشارہ ہے کہ مرد کے لیے استطاعت کے باوجود بے نکاح رہنا عیب کی بات ہے۔

کیا نکاح میں تاخیر کا کوئی جائز عذر ہوتا ہے؟

جی ہاں۔ ’’ترکِ نکاح کے اعذار‘‘ کے تحت (صفحہ ۶۵) کتاب بتاتی ہے کہ جسے واقعی عذر ہو وہ وعید سے مستثنیٰ ہے، چاہے عذر بدنی ہو، مالی ہو یا دینی۔ دینی عذر کی ایک مثال یہ ہے کہ آدمی کو اندیشہ ہو کہ وہ بیوی کے حقوق ادا نہ کر سکے گا۔

رفیقِ حیات کی تلاش میں اس سے کیسے فائدہ اٹھائیں؟

تلاش شروع کرنے سے پہلے اپنی نیت لکھ لیجیے: عفت اور دین کی حفاظت، گھر بسانا اور ان شاء اللہ خاندان۔ پھر ایسا رشتہ دیکھیے جو یہی نیت رکھتا ہو۔ والدین بھی بچوں کے ساتھ یہی طریقہ اپنائیں اور صرف صورت یا حیثیت پر زور دینے کے بجائے ولی کے تعاون سے رشتہ تلاش کرنے میں ان کی مدد کریں۔ تیار ہوں تو اینڈرائیڈ ایپ حاصل کی جا سکتی ہے، اور پاکستان کے خاندان پاکستان میں حلال رشتہ ایپ کا تعارف بھی دیکھ سکتے ہیں۔

اسی کتاب کی دیگر تعلیمات کے لیے دیکھیے بیوہ کا نکاح۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا نکاح کا واحد مقصد اولاد ہے؟ حضرت تھانوی اولاد کو سب سے بڑی غرض فرماتے ہیں، مگر عفت، سکون اور میاں بیوی کی الفت و رحمت سمیت اور مقاصد بھی گنواتے ہیں۔

کیا صرف رفاقت کے لیے نکاح کیا جا سکتا ہے؟ رفاقت اور قرآنی نعمتِ مودت و رحمت ان مقاصد میں شامل ہیں۔ البتہ حضرت اس خیال سے خبردار کرتے ہیں کہ نکاح صرف کھانے اور گھر کی خدمت کے لیے ہے۔

یہ باتیں کہاں پڑھی جا سکتی ہیں؟ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی اسلامی شادی، باب ۱، صفحہ ۵۷ تا ۶۱ اور ۶۵ میں۔

شادی کے بارے میں سنجیدہ ہیں؟ یہاں سب ہی ہیں۔

نکاپ ڈاؤن لوڈ کریں اور نکاح کی جانب پہلا قدم اٹھائیں۔

QR code: ایپ حاصل کرنے کے لیے فون کے کیمرے سے اسکین کریں
ایپ حاصل کرنے کے لیے فون کے کیمرے سے اسکین کریں