بیوی کی قدر و اہمیت: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں
اہم نکات
- بیوی کو سب سے گہرا دوست کیوں کہا گیا؟ ’’بیوی سب سے گہری دوست ہے‘‘ کے عنوان کے تحت (صفحہ ۷۲) کتاب روزمرہ زندگی کا ایک مشاہدہ بیان کرتی ہے۔
- کیا گھر سنبھالنا بھی ایک بڑی خدمت ہے؟ ’’عورت کے احسانات‘‘ کے تحت (صفحہ ۷۴، ۷۵) کتاب کہتی ہے کہ اگر بیوی گھر کا اور کوئی کام نہ کرے، صرف انتظام اور دیکھ بھال ہی کرے، تب بھی یہ بہت بڑا کام…
- بیوی کے بغیر گھر کا نظام کیوں بگڑ جاتا ہے؟ صفحہ ۷۵ پر ’’بغیر بیوی کے گھر کا نظام و انتظام درست نہیں رہ سکتا‘‘ کے تحت وہ اپنے تجربے سے لکھتے ہیں۔
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات: کیا مولانا تھانویؒ کے نزدیک بیوی پر کھانا پکانا لازم ہے؟
اس رہنما میں
بہت سے شوہروں کو بیوی کے فرائض تو یاد رہتے ہیں مگر اس کی قربانیاں بھول جاتی ہیں۔ بیوی کی قدر وہ موضوع ہے جس پر حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے محبت سے کلام فرمایا۔ اس تحریر میں اسلامی شادی (مرتبہ محمد زید مظاہری ندوی) کے باب ۲ ’’بیوی کے بیان میں‘‘ کے ابتدائی حصے (صفحہ ۷۲ تا ۷۵) کا خلاصہ ہے۔
یہ ہمارا خلاصہ ہے، فتویٰ نہیں اور نہ لفظ بہ لفظ ترجمہ۔ اپنے مخصوص مسئلے میں کسی معتبر عالم سے رجوع کیجیے۔
بیوی کو سب سے گہرا دوست کیوں کہا گیا؟
’’بیوی سب سے گہری دوست ہے‘‘ کے عنوان کے تحت (صفحہ ۷۲) کتاب روزمرہ زندگی کا ایک مشاہدہ بیان کرتی ہے۔ غربت اور مصیبت میں دوست الگ ہو جاتے ہیں اور رشتہ دار بھی تھک جاتے ہیں، مگر بیوی ہر حال میں شوہر کے ساتھ رہتی ہے۔
اسی صفحے پر ہے کہ بیماری میں سب سے زیادہ راحت بیوی پہنچاتی ہے اور کوئی دوست، بلکہ بعض اوقات ماں باپ بھی، اس جیسی راحت نہیں دے پاتے۔ مصنف کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں مرد کا بیوی کے برابر کوئی دوست نہیں۔
نکاح کے وقت بیوی کیا چھوڑ کر آتی ہے؟
صفحہ ۷۴ پر ’’بیوی کی قربانی اور سب سے بڑا کمال‘‘ کے تحت مولانا تھانویؒ شوہر سے کہتے ہیں کہ ذرا اس کی طرف سے سوچو۔ وہ جیسی بھی ہو، اس نے اپنی ماں، اپنے باپ اور سارے خاندان کو چھوڑا اور اب اس کی نظر صرف شوہر پر ہے۔
ان کا نتیجہ سادہ ہے: انسانیت کا تقاضا ہے کہ ایسی اعتماد کرنے والی ہستی کو تکلیف نہ دی جائے۔ کتاب یہ بھی کہتی ہے کہ شوہر کا اپنی بیوی کے میکے والوں سے جھگڑا ہو جائے تب بھی عموماً بیوی شوہر کا ساتھ دیتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
کیا گھر سنبھالنا بھی ایک بڑی خدمت ہے؟
’’عورت کے احسانات‘‘ کے تحت (صفحہ ۷۴، ۷۵) کتاب کہتی ہے کہ اگر بیوی گھر کا اور کوئی کام نہ کرے، صرف انتظام اور دیکھ بھال ہی کرے، تب بھی یہ بہت بڑا کام ہے۔ دنیا میں انتظام کرنے والوں کو بڑی تنخواہیں اور عزت ملتی ہے، جبکہ بیوی کے اس کام کا بدلہ صرف نان نفقہ ہے۔
مصنف ان ماؤں کا بھی ذکر کرتے ہیں جو بچوں کی پرورش بڑی محنت سے کرتی ہیں اور کہتے ہیں کہ تنخواہ پر رکھی گئی ملازمہ کبھی اس کی برابری نہیں کر سکتی۔ شوہروں کے لیے سبق یہ ہے کہ جس محنت کا شکریہ کم ہوتا ہے، اسے پہچانیں۔
کیا بیوی پر کھانا پکانا واجب ہے؟
صفحہ ۷۵ پر مصنف ایک مولوی صاحب کا ذکر کرتے ہیں جو عورتوں پر کھانا پکانا واجب سمجھتے تھے۔ مولانا تھانویؒ اپنی رائے دیتے ہیں کہ ان کے ذمے اس کا وجوب ثابت نہیں۔ وہ ازواج سے متعلق آیت (۳۰:۲۱) سے استدلال کرتے ہیں کہ بیویاں اس لیے پیدا کی گئیں کہ ان سے شوہروں کو سکون ملے، محض روٹیاں پکانے کے لیے نہیں۔
بیوی کے بغیر گھر کا نظام کیوں بگڑ جاتا ہے؟
صفحہ ۷۵ پر ’’بغیر بیوی کے گھر کا نظام و انتظام درست نہیں رہ سکتا‘‘ کے تحت وہ اپنے تجربے سے لکھتے ہیں۔ مرد کمانا اور سامان جمع کرنا کر دیتا ہے، مگر گھر کی صورت گری عورتوں سے بنتی ہے۔ وہ ایسے مالدار لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جن کے پاس سب کچھ تھا مگر آرام نہ تھا، کیونکہ باورچی تو ملازم ہے جو ایک سخت بات پر چھوڑ سکتا ہے۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ گھر کی مالکہ کی موجودگی میں نوکر اور نوکرانیاں مختلف طرح رہتے ہیں اور اس کے بغیر گھر اجڑ جاتا ہے۔ رشتہ دیکھنے والے خاندانوں کے لیے اشارہ یہ ہے کہ گھر کی بڑائی سے زیادہ سیرت اور سلیقہ اہم ہے۔
شوہر بیوی کی قدر کا عملی اظہار کیسے کرے؟
صفحہ ۷۳ اور ۷۴ سے کتاب کے بنیادی عملی نکات یہ ہیں:
- شکرگزاری۔ یاد رکھیں کہ وہ کیا کچھ پیچھے چھوڑ کر آئی ہے اور اس کا شکریہ ادا کریں۔
- اس کے حقوق۔ اس کے حقوق کئی صفتوں سے جمع ہوتے ہیں: وہ بے بس ہے، دوست ہے اور دین کی حفاظت میں مددگار ہے (صفحہ ۷۳)۔
- نرمی۔ اعتماد کرنے والی ہستی کو تکلیف نہ دیں، چاہے وہ کامل نہ ہو۔
- کشادہ نفقہ۔ کھانا اور کپڑا کھلے دل سے دیں، تنگ دلی سے نہیں۔
اگر آپ ابھی رشتہ ڈھونڈ رہے ہیں تو ولی کے ساتھ رشتہ تلاش میں گھر والے شروع ہی میں سیرت اور مزاج کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں، اور آپ اینڈرائیڈ ایپ حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستانی خاندان پاکستان میں حلال رشتہ ایپ کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں۔
اسی کتاب کی متعلقہ تعلیمات کے لیے نکاح کا مقصد اور نیت اور نکاح کا حکم دیکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا مولانا تھانویؒ کے نزدیک بیوی پر کھانا پکانا لازم ہے؟ اس حصے میں وہ فرماتے ہیں کہ اس کا وجوب ثابت نہیں اور بیویاں سکون کے لیے پیدا کی گئی ہیں (۳۰:۲۱)۔ اپنے گھر کے بارے میں کسی عالم سے پوچھیں۔
کتاب بیوی کی قربانی پر زور کیوں دیتی ہے؟ اس لیے کہ وہ شوہر کی خاطر اپنا خاندان چھوڑتی ہے، اور اسی بنا پر وہ اسے تکلیف دینے کو بنیادی انسانیت کے خلاف کہتے ہیں۔
یہ مضمون کہاں پڑھ سکتے ہیں؟ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی اسلامی شادی، باب ۲، صفحہ ۷۲ تا ۷۵ میں۔