رشتے میں ظاہری چمک نہیں، سیرت اور عفت: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں
اہم نکات
- جیون ساتھی چنتے وقت سب سے پہلے کیا دیکھنا چاہیے؟ صفحہ ۷۷ پر کتاب کہتی ہے کہ نکاح میں سب سے پہلے اسی مقصد کی حفاظت کرنی چاہیے جس کے لیے نکاح ہے، یعنی بے حیائی سے بچاؤ۔
- کیا عفت واقعی دوسری کمزوریوں کو قابل برداشت بنا دیتی ہے؟ اس حصے کا مرکزی نکتہ صفحہ ۷۹ پر ہے۔
- شوہر کو بڑھاپے میں بیوی کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟ ’’بوڑھی بیوی کی قدر‘‘ کے عنوان کے تحت (صفحات ۷۹ تا ۸۰) مولانا تھانویؒ لکھتے ہیں کہ بعض لوگ بوڑھی بیوی سے نفرت کرنے لگتے ہیں، حالانکہ اسے بوڑھا انھوں…
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات: کیا مولانا تھانویؒ کے نزدیک ہنر کی کوئی اہمیت نہیں؟
اس رہنما میں
رشتہ دیکھتے وقت اکثر گھرانے وہی چیزیں پرکھتے ہیں جو نظر آتی ہیں: سلیقہ، رکھ رکھاؤ، کھانا پکانا اور خوداعتمادی۔ مگر رشتے میں سیرت کا انتخاب ایک مشکل سوال اٹھاتا ہے: مشکل وقت میں کیا چیز ساتھ نبھاتی ہے؟ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی تعلیمات کے مجموعے اسلامی شادی (مرتبہ محمد زید مظاہری ندوی) میں اس کا واضح جواب ملتا ہے۔ دوسرے باب (باب ۲، فصل ۲، صفحات ۷۷ تا ۸۰) میں وہ عفت کو سب سے پہلے رکھتے ہیں اور پھر شوہروں کو سمجھاتے ہیں کہ بیوی بوڑھی ہو جائے تو اس کی قدر اور بڑھ جاتی ہے۔
یہ کتاب کا ہمارا خلاصہ ہے، فتویٰ نہیں اور نہ لفظ بہ لفظ ترجمہ۔ بعض باتیں مصنف کے زمانے اور ماحول کے مطابق ہیں۔ اپنے مخصوص معاملے میں کسی معتبر عالم سے رجوع کیجیے۔
جیون ساتھی چنتے وقت سب سے پہلے کیا دیکھنا چاہیے؟
صفحہ ۷۷ پر کتاب کہتی ہے کہ نکاح میں سب سے پہلے اسی مقصد کی حفاظت کرنی چاہیے جس کے لیے نکاح ہے، یعنی بے حیائی سے بچاؤ۔ مصنف کا کہنا ہے کہ عورت میں سارے ہنر ہوں مگر حیا نہ ہو تو بڑا نقصان ہے، اور حیا ہو تو بہت سی کمیوں کی تلافی ہو جاتی ہے۔
وہ سورۃ النور (۲۴:۲۳) میں ایمان والی بے خبر عورتوں کی تعریف کا ذکر کرتے ہیں اور اسے سادہ دل اور پاک نفس ہونے کی خوبی سمجھتے ہیں۔ یہ بھی فرماتے ہیں کہ مردوں کے لیے اس انداز کی تعریف نہیں آئی۔ ہمارا فہم یہ ہے کہ بات دل کی پاکیزگی کی ہے، تعلیم کی کمی کی نہیں۔
کیا سلیقہ مند اور بنا سنورا رشتہ ہمیشہ زیادہ محفوظ ہوتا ہے؟
صفحات ۷۷ اور ۷۸ میں دو طرح کی خواتین کا موازنہ ہے جنھیں مصنف نے دیکھا۔ کچھ بے سلیقہ یا تیز مزاج ہوتی ہیں مگر حیا دار۔ کچھ ہر وقت بنی سنوری اور ظاہر میں نفیس نظر آتی ہیں، لیکن ان کی عفت کے بارے میں انھیں اطمینان نہیں ہوتا۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ ظاہری چمک دمک کے پیچھے کمزور کردار بھی چھپ سکتا ہے۔
گھرانوں کے لیے عملی سبق یہ ہے کہ پہلی ملاقات میں سادہ یا جھجکنے والے فرد کو رد نہ کریں اور صرف چمک دمک سے متاثر بھی نہ ہوں۔ یہ دیکھیں کہ جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو تو وہ کیسا برتاؤ کرتا ہے: پیسے، دوسروں کی امانت، نامحرم اور اختلاف کے وقت۔
کیا عفت واقعی دوسری کمزوریوں کو قابل برداشت بنا دیتی ہے؟
اس حصے کا مرکزی نکتہ صفحہ ۷۹ پر ہے۔ کتاب کہتی ہے کہ جو بیوی گھر چلانے، کھانا پکانے یا بچوں کی دیکھ بھال میں کمزور ہو مگر عفت والی ہو تو وہ قدر کے لائق ہے، کیونکہ عفت اس کی بہت سی خامیوں کو خوبی کے قریب کر دیتی ہے۔ مصنف مشورہ دیتے ہیں کہ شوہر ایسی کمی دیکھے تو اس کی عفت کو دانستہ یاد کرے تاکہ دل کی کدورت بڑھ کر ناپسندیدگی نہ بن جائے۔
وہ اسے بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کے قرآنی حکم (۴:۱۹) سے جوڑتے ہیں کہ ہو سکتا ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ نے اس میں بڑی بھلائی رکھی ہو۔
کیا ہنر، سلیقہ اور اخلاق کی کوئی اہمیت نہیں؟
یقیناً اہمیت ہے اور کتاب اس کا انکار نہیں کرتی۔ اس کا زور ترتیب پر ہے: پہلے حیا اور دیانت، پھر ہنر۔ ہنر نکاح کے بعد سیکھا جا سکتا ہے، جبکہ کردار کو دوبارہ بنانا بہت مشکل ہے۔
ہمارا اپنا نتیجہ، نہ کہ کتاب کے الفاظ: یہی معیار مرد اور عورت دونوں کے لیے ہونا چاہیے۔ جو گھرانہ لڑکے کی آمدنی تو پوچھتا ہے مگر اس کی دیانت اور چال چلن نہیں، وہ دوسری طرف وہی غلطی کر رہا ہے۔
شوہر کو بڑھاپے میں بیوی کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟
’’بوڑھی بیوی کی قدر‘‘ کے عنوان کے تحت (صفحات ۷۹ تا ۸۰) مولانا تھانویؒ لکھتے ہیں کہ بعض لوگ بوڑھی بیوی سے نفرت کرنے لگتے ہیں، حالانکہ اسے بوڑھا انھوں نے ہی کیا ہے۔ وہ مولانا فضل الرحمٰن کا قول نقل کرتے ہیں کہ پرانی بیوی اماں کی طرح ہو جاتی ہے: شروع میں لذت ہوتی ہے اور آخر میں فوائد بڑھتے ہیں، کیونکہ وہ ہمدرد اور خدمت گزار ہوتی ہے۔ عقل مند لوگ فائدے کو دیکھتے ہیں، لذت کو نہیں۔
مولانا تھانویؒ اپنی بات بھی جوڑتے ہیں: محبت کا جوش جوانی کا ہوتا ہے، جبکہ بڑھاپا اور بیماری کمزوری کا زمانہ ہے جس میں ہمدردی چاہیے، اور اس وقت بیوی کے سوا کوئی دوسرا یہ کام نہیں آتا۔
وہ ایک زندہ مثال بھی دیتے ہیں: مدرسہ مظاہر علوم کے مدرس مولانا محمد مظہر کی بیوی بوڑھی اور کمزور ہوئیں تو وہ مدرسے سے رخصت لے کر خود ان کی خدمت کرتے، گھر کے خادموں پر نہیں چھوڑتے تھے۔
گھرانہ اس تعلیم پر عمل کیسے کرے؟
- پہلے سیرت پوچھیں۔ تعلیم اور ملازمت کے ساتھ حیا، دیانت، صبر اور نرمی کو بھی رشتے کے سوالات میں شامل کریں۔
- چمک کے بجائے شواہد دیکھیں۔ جن لوگوں نے اسے عام اور مشکل حالات میں دیکھا ہو ان سے پوچھیں، اور منگنی اور رشتے کے سوالات کی فہرست بھی دیکھیں۔
- ایک کمی کی بنا پر سب کچھ رد نہ کریں۔ وہ ہنر جو سیکھا جا سکتا ہے اور وہ خصلت جو نہیں بدلتی، دونوں کو الگ رکھیں۔
- لمبے سفر کا سوچیں۔ دونوں طرف سے پوچھیں کہ بیماری یا بڑھاپے میں شریک حیات کی خدمت کیسے ہوگی۔
- ولی اور گھر والوں کو شامل رکھیں۔ بزرگ کا تجربہ، خاص طور پر جب فیصلہ ظاہری باتوں پر ہو رہا ہو، بہت کام آتا ہے۔
نکاپ پر ولی کے ساتھ رشتہ تلاش کرنے کی سہولت گھر والوں کو شروع سے گفتگو میں شریک رکھتی ہے اور خواتین کے لیے یہ ہمیشہ مفت ہے۔ آپ اینڈرائیڈ ایپ حاصل کر سکتے ہیں یا قیمتوں کا صفحہ دیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان کے گھرانے پاکستان میں حلال رشتہ ایپ کا تعارف بھی پڑھ سکتے ہیں۔
اسی کتاب کی متعلقہ تعلیمات کے لیے بیوی کی قدر و اہمیت اور نکاح میں کفائت بھی دیکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا مولانا تھانویؒ کے نزدیک ہنر کی کوئی اہمیت نہیں؟ ایسا نہیں۔ اس حصے میں وہ حیا اور دیانت کو مقدم رکھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ بہت سی کمیوں کی تلافی کر دیتی ہیں۔ ہنر پھر بھی اہم ہے اور سیکھا جا سکتا ہے۔
بوڑھی بیوی کے بارے میں کتاب کیا کہتی ہے؟ یہ کہ اس کی قدر کم نہیں، زیادہ ہونی چاہیے، کیونکہ بڑھاپے میں وہ ہمدرد اور خدمت گزار ساتھی ہوتی ہے۔ مصنف ایک مدرس کی مثال دیتے ہیں جو اپنی بیوی کی خود تیمارداری کرتے تھے۔
یہ تعلیم کہاں پڑھی جا سکتی ہے؟ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی اسلامی شادی (مرتبہ محمد زید مظاہری ندوی)، باب ۲، فصل ۲، صفحات ۷۷ تا ۸۰ میں۔ یہ خلاصہ ہے، فتویٰ نہیں؛ کسی معتبر عالم سے پوچھ لیجیے۔