نکاح میں کفائت یعنی برابری: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کیا سکھاتے ہیں
اہم نکات
- نکاح میں کفائت کا کیا مطلب ہے؟ کفائت (جسے کفو بھی کہا جاتا ہے) کا مطلب یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے مناسب جوڑ ہوں، تاکہ نکاح کسی فریق کے لیے شرمندگی یا مسلسل کھچاؤ کا سبب نہ بنے۔
- کیا کفائت کا مطلب دوسروں کو حقیر سمجھنا ہے؟ ہرگز نہیں، اور یہاں مولانا تھانویؒ کا لہجہ واضح ہے۔
- اگر نکاح غیر کفو میں ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ صفحات 97 اور 98 پر کتاب کئی صورتیں ذکر کرتی ہے کیونکہ حکم اس بات پر ہے کہ نکاح کس نے کیا۔
- اکثر پوچھے جانے والے سوالات: کیا ہر نکاح کے لیے کفائت شرط ہے؟
اس رہنما میں
ہر گھر میں یہ جملہ کبھی نہ کبھی سننے کو ملتا ہے: "وہ ہمارے برابر کے نہیں ہیں۔" کبھی یہ غرور کی بات ہوتی ہے اور کبھی تجربے سے پیدا ہونے والا خدشہ۔ نکاح میں کفائت یعنی میاں بیوی کے درمیان مناسب برابری اسی کشمکش کے بیچ کھڑی ہے۔ اس تحریر میں ہم بیان کرتے ہیں کہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس بارے میں کیا لکھا ہے، جو "اسلامی شادی" میں ان کی تعلیمات کے مجموعے میں ملتا ہے، جسے محمد زید مظاہری ندوی نے مرتب کیا ہے (باب 4، "کفائت کا بیان"، صفحات 94 تا 98)۔
یہ ہمارا اپنے الفاظ میں خلاصہ ہے، فتویٰ نہیں۔ اپنے مخصوص مسئلے میں کسی معتبر عالم سے رجوع کیجیے۔
نکاح میں کفائت کا کیا مطلب ہے؟
کفائت (جسے کفو بھی کہا جاتا ہے) کا مطلب یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے مناسب جوڑ ہوں، تاکہ نکاح کسی فریق کے لیے شرمندگی یا مسلسل کھچاؤ کا سبب نہ بنے۔ صفحہ 94 پر کتاب باب کا آغاز اسی بحث سے کرتی ہے اور اس مشہور حدیث کا ذکر کرتی ہے جس میں ایسے رشتے کو قبول کرنے کی ہدایت ہے جس کا دین اور اخلاق پسند آئے۔ مولانا تھانویؒ کا نکتہ یہ ہے کہ شریعت اتنی فطری چیز کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔
کتاب میں حضرت عمر بن خطابؓ سے منسوب ایک روایت کا بھی ذکر ہے کہ وہ عورتوں کو غیر کفو میں نکاح کرنے سے روکتے، اور یہ کہ فقہا نے نکاح کے فوائد کے قائم رہنے کے لیے کفائت کا لحاظ رکھا (صفحہ 94)۔
مولانا تھانویؒ کے نزدیک کفائت کا لحاظ کیوں رکھنا چاہیے؟
صفحات 95 تا 97 میں جو وجوہات بیان ہوئی ہیں وہ فخر کی نہیں بلکہ عملی ہیں:
- عادات اور مزاج۔ دلہن اسی شوہر کے ساتھ زیادہ خوش رہتی ہے جس کی تربیت اور اطوار اس سے ملتے ہوں؛ جہاں فرق ہو وہاں بار بار ناچاقی رہتی ہے (صفحہ 96)۔
- سسرال میں عزت۔ جس عورت کا خاندان کم سمجھا جائے وہ برسوں بے قدری سہتی ہے، اور شوہر کی نظر میں بھی اس کی قدر نہیں رہتی، جس سے نکاح کے سارے فائدے ضائع ہو جاتے ہیں (صفحات 96 تا 97)۔
- لڑکی کا معاملہ نازک ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ لڑکی کا معاملہ بہت نازک ہوتا ہے، اور بڑے سمجھ دار لوگ بھی اس میں ذلت اٹھاتے ہیں۔ پرانے بزرگ جو اپنے خاندان سے باہر رشتہ نہیں کرتے تھے وہ تکبر سے نہیں بلکہ تجربے کی بنیاد پر ایسا کرتے تھے (صفحہ 96)۔
- اگلی نسل۔ ایسے نکاح کی اولاد کے رشتوں میں مشکل آ سکتی ہے، کیونکہ رشتے دار انہیں اپنے برابر نہیں سمجھتے (صفحہ 96)۔
کیا کفائت کا مطلب دوسروں کو حقیر سمجھنا ہے؟
ہرگز نہیں، اور یہاں مولانا تھانویؒ کا لہجہ واضح ہے۔ صفحہ 95 پر وہ فرماتے ہیں کہ افراط اور تفریط دونوں بری ہیں: نہ نسب پر فخر کر کے دوسری قوموں کو حقیر سمجھا جائے، اور نہ نسب کو بالکل بے حیثیت قرار دیا جائے۔ وہ ایک واقعہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک مولوی صاحب نے نسب کی اہمیت کو ہلکا بنا کر پیش کیا تاکہ ایک خاندان اپنی بیٹی دے دے، اور لوگ اس بات سے قائل نہ ہوئے۔ ان کا نتیجہ یہ ہے کہ جو چیز ذلت کا سبب بنتی ہے یعنی تکبر، اس سے بچا جائے، اور تواضع اختیار کی جائے۔
نسب اور غرور کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہماری تحریر شرافتِ نسب نعمت ہے، فخر نہیں پڑھیے۔
کفائت مرد کی طرف سے دیکھی جاتی ہے یا عورت کی طرف سے؟
صفحہ 97 پر کتاب بتاتی ہے کہ کفائت کے اعتبار کی وجہ عار یعنی شرمندگی کو دور کرنا ہے، اور عار کا مدار عرف پر ہے۔ یہ اعتبار مرد کی جانب سے ہے: شوہر کا درجہ بیوی سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر بیوی کا درجہ شوہر سے کم ہو تو یہ گوارا ہے۔
کتاب صاف الفاظ میں اس خیال کو غلط قرار دیتی ہے کہ کم خاندان کی لڑکی سے شادی نہ کی جائے کیونکہ اس سے اولاد کی نسل بگڑتی ہے۔ ان کے بقول شریعت میں اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ پچھلے حصے کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو یہ ایک نرم یاد دہانی ہے: کفائت گھر کے سکون کا ذریعہ ہے، حقارت کی اجازت نہیں۔
اگر نکاح غیر کفو میں ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
صفحات 97 اور 98 پر کتاب کئی صورتیں ذکر کرتی ہے کیونکہ حکم اس بات پر ہے کہ نکاح کس نے کیا۔ حنفی موقف کے مطابق، جیسا کتاب نے لکھا ہے، مختصر یہ ہے:
- عاقلہ بالغہ عورت اگر ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو میں نکاح کرے تو کتاب کے مطابق فتویٰ یہ ہے کہ نکاح صحیح نہیں ہوتا۔
- نابالغ کا نکاح باپ یا دادا نے کیا ہو جو اچھی سمجھ کے لیے معروف ہیں: نکاح لازم ہو جاتا ہے۔
- نابالغ کا نکاح کسی دوسرے ولی نے، یا ایسے باپ دادا نے کیا ہو جو بدخواہی یا نشے کی حالت کی وجہ سے معروف ہوں: کتاب کے مطابق نکاح باطل ہے۔
- بالغ عورت نے ولی کی اجازت سے غیر کفو میں نکاح کیا: نکاح صحیح اور لازم ہے۔
اس سے ولی کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ اگر ولی کے کردار کے بارے میں ابہام ہو تو ولی کے بغیر نکاح اور شادی میں ولی کی اہمیت اور کردار پڑھیں۔
آج کے گھرانے اس سے کیسے فائدہ اٹھائیں؟
کفائت کو آسانی سے تعصب کا شریفانہ نام بنا لیا جاتا ہے۔ رشتے کی بات میں اسے احتیاط سے لانے کا ایک بہتر طریقہ یہ ہے:
- سب سے پہلے دین اور اخلاق دیکھیں، جن پر حدیث زور دیتی ہے، اس کے بعد حیثیت اور آمدنی۔
- ایمانداری سے سوچیں کہ کھچاؤ کہاں ہو سکتا ہے: رہن سہن، زبان، سسرال کی توقعات، کام کے بارے میں سوچ۔ پھر ان پر کھل کر بات کریں۔
- اپنے دل کو غرور کے لیے جانچیں۔ اگر اعتراض صرف ذات یا برادری کا ہے تو نظرثانی کریں۔
- ولی کو شروع ہی میں شامل کریں تاکہ فیصلہ گھر والوں کے ساتھ ہو، ان کے پیچھے نہیں۔
- استخارہ کریں اور خاندان کو جاننے والوں سے مشورہ جاری رکھیں۔
پاکستان میں بہت سے گھرانے اس دباؤ کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ پاکستان میں رشتہ تلاش کرنے کی رہنمائی اور نکاپ کا فیملی موڈ اسی لیے بنائے گئے ہیں کہ ولی کو شروع سے گفتگو میں شامل کیا جائے، اور نکاپ خواتین کے لیے مفت ہے۔ آزمانا چاہیں تو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا ہر نکاح کے لیے کفائت شرط ہے؟ اس معنی میں نہیں کہ خاندانوں میں فرق ہو تو نکاح لازماً باطل ہو جائے۔ کتاب مختلف صورتیں بیان کرتی ہے اور حکم اس پر ہے کہ نکاح کس نے کیا اور ولی راضی تھا یا نہیں۔ اپنی صورت کسی عالم سے پوچھیں۔
کیا مرد کم خاندان کی لڑکی سے شادی کر سکتا ہے؟ کتاب کے مطابق کفائت مرد کی جانب سے دیکھی جاتی ہے اور کم درجے کی بیوی گوارا ہے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ اولاد کی نسل کے خدشے سے ایسی بیوی سے بچنا غلط ہے۔
یہ بحث کہاں پڑھی جا سکتی ہے؟ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی "اسلامی شادی" میں، جسے محمد زید مظاہری ندوی نے مرتب کیا ہے، باب 4، صفحات 94 تا 98۔ یہ خلاصہ ہے، فتویٰ نہیں؛ کسی معتبر عالم سے پوچھ لیجیے۔